الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 588 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 588

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 557 ہرگز طاعون سے وفات نہیں پائیں گے۔چنانچہ مولوی صاحب نے جلد ہی اس پیشگوئی کو پورا ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ابھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہاتھ ان کی پیشانی پر ہی تھا اور آپ محو گفتگو ہی تھے کہ بخار کا زور ٹوٹ گیا اور طاعون کا نام و نشان تک نہ رہا۔مولوی صاحب اٹھ بیٹھے اور بخار کے اتنی جلدی زائل ہونے پر حیرت سے اپنے آپ کو ٹولنے لگے۔نہ صرف مولوی صاحب بلکہ ان کے ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگ جو ان کی موت کا یقین کئے بیٹھے تھے اس اعجازی شفایابی پر حیران رہ گئے۔مولوی صاحب اس کے بعد ایک لمبا عرصہ زندہ رہے اور 77 سال کی عمر میں 1951ء میں الا ہور میں وفات پائی۔طاعون نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں میں آخر کیونکر تمیز کردی۔یہ بات لوگوں کیلئے ہمیشہ معمہ بنی رہے گی سوائے ان کے جو قادر مطلق خدا کی لامتناہی صفات پر ایمان لاتے ہیں۔یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس باب میں بیان کردہ واقعات کی تصدیق میں وہ کونسی ٹھوس شہادتیں ہیں جو غیر جانبدارانہ تحقیق کی تائید میں پیش کی جاسکتی ہیں۔مشکل یہ ہے کہ اس تعلق میں پیش کی جانے والی تمام شہادتیں اندرونی ہیں۔تمام گواہ یا تو احمدی تھے یا پھر وہ جو اس کو دیکھنے کے بعد احمدیت کی آغوش میں آگئے تا ہم تمام بیرونی شہادتیں بالواسطہ ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک زبر دست اثر رکھتی ہیں کیونکہ یہ خود معاندین کی طرف سے پیش کی گئیں۔سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ کسی غیر جانبدار ادارہ کی طرف سے اس معاملہ کی آزادانہ چھان بین نہیں کی گئی۔اس وقت صرف احمدی اور غیر احمدی دو گروہ ہی موجود تھے۔طاعون کی تباہ کاریوں کے بارہ میں تمام حقائق اور اعداد و شمار ہمیں اس زمانہ میں شائع ہونے والے اخبارات، رسائل، اشتہارات اور کتابوں سے مل سکتے ہیں لیکن یہ مواد صرف اسی صورت میں قابل اعتماد سمجھا جا سکتا ہے جب اس دور کے حالات کو مد نظر رکھ کر اس کی چھان بین کی جائے۔سب سے اہم اور قابل ذکر امر یہ ہے کہ اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کے کردار، دعاوی اور سرگرمیوں کے بارہ میں غیر معمولی دلچسپی پیدا ہو چکی تھی۔انتہائی معاندانہ اور مضبوط غیر احمدی صحافتی دنیا جماعت احمدیہ کی تکلیف دہ، دل خراش اور منفی تصویر پیش کر رہی تھی۔چنانچہ معاندین حضرت