الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 587
556 طاعون کا نشان غیر معمولی تناسب سے محفوظ رکھے گئے جسے کسی طور بھی اتفاقی یا حادثاتی قرار نہیں دیا جاسکتا۔دنیا کی کوئی منطق اس امر کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کر سکتی کہ سینکڑوں دیہات کی مخلوط آبادی میں سے آخر احمدی ہی کیونکر بچ نکلے۔یہ معجزہ بار بار ایسی شان کے ساتھ ظاہر ہوا کہ اندھوں کو بھی صاف دکھائی دینے لگا اور وہ جوق در جوق احمدیت کی آغوش میں اس کثرت سے کھنچے چلے آئے جس کی نظیر نہیں ملتی۔خدا کی شان ہے کہ یہ سب طاعون سے محفوظ رکھے گئے۔لیکن افسوس ان لوگوں پر جو بینا ہونے کے باوجود اس نشان کی آب و تاب سے اندھوں کی طرح ہو گئے۔ایسے دیہات بھی تھے جہاں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے ماننے والوں کے سوا کوئی بھی لاشوں کو قبرستان لے جانے والا باقی نہ رہا جنہوں نے بلا خوف و خطر منکرین کی لاشیں دفنانے کا فریضہ انجام دیا۔پنجاب کے عمومی جائزہ کے بعد اب ہم قادیان کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔سب کچھ پیشگوئی کے عین مطابق ہوا سوائے ان اکا دکا واقعات کے جو بظاہر پیشگوئی سے متناقض دکھائی دیتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک معروف رفیق مولوی محمد علی صاحب شدید بخار میں مبتلا ہو گئے جس کی تمام علامات طاعون سے ملتی جلتی تھیں۔حتی کہ بغل کے نیچے موجود گلٹیاں بھی خطرناک حد تک متورم ہو کر شدید درد اور تکلیف کا باعث بن گئیں۔ہر ممکن اور دستیا۔علاج کرایا گیا مگر کوئی افاقہ نہ ہوا اور تکلیف کسی طرح کم نہ ہوئی۔مولوی صاحب یہ بات تسلیم کرنے کے لئے ہر گز تیار نہ تھے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفیق ہو کر خدائی وعدہ کے برخلاف ایسے انجام سے دوچار ہوں۔بیماری کی اذیت تو نا قابل برداشت تھی ہی، لیکن اس سے بڑھ کر یہ بات ان کیلئے سوہان روح بن گئی کہ مبادا خدا کی نظر میں آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بچے پیروکاروں میں شمار نہ ہوں۔اسی حالت میں بستر پر کروٹیں بدلتے ہوئے انہوں نے فریاد کی کہ خدارا کوئی دوست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر میری کربناک حالت سے آپ کو آگاہ کرے اور درخواست کرے کہ حضور تشریف لا کر میرے لئے دعا کریں۔چنانچہ آپ فوراً تشریف لے آئے اور اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہ کی کہ مریض طبی تشخیص کی رو سے طاعون کا شکار ہو چکا ہے۔آپ نے مولوی صاحب کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ چونکہ میں خدا کا سچا مسیح ہوں اس لئے آپ