الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 585
554 طاعون کا نشان تمام پہلوؤں کا احاطہ تو نہ کر سکے تاہم کافی حد تک ان پر اس پیشگوئی کی حقیقت کھل گئی۔علامہ اسماعیل حقی البروز وی (وفات 1137 ہجری) اپنی کتاب "روح البیان میں اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ مہدی کے ظہور کے بعد دنبال کا خروج ہو گا۔تب حضرت مسیح علیہ السلام ظاہر ہوں گے۔اسی دوران دابہ نکلے گا اور اس کے بعد سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔شیعہ عالم ملا فتح اللہ کا شانی (وفات 988 ہجری) اپنی تفسیر منہاج الصادقین میں فرماتے ہیں : ”ہمارے بعض فاضل دوست دابہ والی آیت سے امت مسلمہ میں ایک ربانی حکم کا ظہور مراد لیتے ہیں جو امام مہدی ہوگا۔“ مفسرین احادیث کی روشنی میں اس قرآنی آیت کی تشریح اسی حد تک سمجھ سکتے تھے تا ہم وہ دابہ کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہے۔یہ شرف صرف حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو نصیب ہوا جنہوں نے آخری زمانہ کے مصلح کی حیثیت سے وحی الہی کی روشنی میں اس عظیم الشان پیشگوئی کی وضاحت فرمائی۔فروری 1898ء میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ طاعون کا عذاب سر پر منڈلا رہا ہے۔چنانچہ آپ نے فوری طور پر اس اہم وعید کو اخبارات اور اشتہارات کے ذریعہ تمام دنیا میں مشتہر کر دیا۔اس پیشگوئی کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ طاعون کے جس عذاب کی پیشگوئی کی گئی تھی دابہ کے ظہور والی آیت اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔آپ نے مزید فرمایا کہ آیت میں مذکور لفظ تُكَلِّمُ کے دو بنیادی معنے ہیں۔ایک معنی کائنا اور دوسرا کلام کرنا ہے۔آیت کا سیاق و سباق واضح کرتا ہے کہ اس کا تعلق ایسے جانور سے ہے جو الہی نشانات کے انکار کی وجہ سے لوگوں کو کاٹے گا۔دوسرے معنوں کی رو سے 'دابہ لوگوں سے کلام کرے گا۔اور اس کا کلام کرنا اس رنگ میں ہوگا کہ وہ کاٹتے وقت نیک و بد میں امتیاز کرلے گا۔اس ابتدائی تنبیہ کے بعد بہت سے دیگر الہامات نے طاعون کی حقیقت کو کھولتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ یہ کس طرح حملہ آور ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بالنصر راحت بتادیا گیا تھا کہ طاعون سے پنجاب میں وسیع پیمانہ پر تباہی پھیلے گی اور گاؤں کے گاؤں ویران ہو جائیں گے۔یہ ہر گھر کے دروازہ پر دستک دے گی اور جہاں جہاں سے گزرے گی اپنے پیچھے خوف اور دہشت