الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 584
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 553 ایک ایسی ہی انداری پیشگوئی طاعون کے بارہ میں تھی جس کے متعلق آپ کو الہاما بتایا گیا کہ یہ صوبہ پنجاب میں غیر معمولی تباہی لائے گی۔اس بارہ میں جو پر شوکت پیش گوئی آپ نے فرمائی اس کے الفاظ یہ ہیں: دنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے طاعون ان بہت سے اندازی نشانوں میں سے ایک نشان تھا جن کی آپ نے پیشگوئی فرمائی تھی۔مگر یہ اتنا غیر معمولی اور پر ہیبت نشان تھا کہ اس کا خصوصیت سے علیحدہ ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ہی نہیں بلکہ قرآن کریم اور حامل قرآن آنحضرت ﷺ کی صداقت کا بھی نشان ہے۔اس نشان سے یہ بات بھی ید یہی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ الہام ہی دراصل علم کے غیب سے شہود میں منتقل ہونے کا معتبر ترین ذریعہ ہے۔طاعون کی جو خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی گئی وہ در حقیقت قرآنی پیشگوئی ہی تھی جو آپ کے زمانہ میں دوبارہ کی گئی۔کیونکہ اسی دور میں اس کا پورا ہونا مقدر تھا: وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ انَّ النَّاسَ كَانُوا بِأَيْتِنَا لَا يُوقِنُونَ (النمل 27: 83) ترجمہ: اور جب ان پر فرمان صادق آ جائے گا تو ہم ان کیلئے سطح زمین میں سے ایک جاندار نکالیں گے جو ان کو کاٹے گا ( اس وجہ سے ) کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں لاتے تھے۔قرآن کریم میں مذکور لفظ داب کے معانی پہلے ہی ایک اور آیت کے حوالہ سے بیان ہو چکے ہیں۔اس کا اطلاق سطح زمین پر حرکت کرنے والے تمام قسم کے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے جانوروں پر ہوتا ہے۔2 اس پیشگوئی کی اہمیت اور مفہوم کو سمجھنا از بس ضروری ہے جس میں عصر حاضر کیلئے ایک قومی اور عظیم الشان پیغام پوشیدہ ہے۔ماضی کے اکثر علماء اور مفسرین نے اس پیشگوئی کا تعلق اس دور سے باندھا ہے جس میں مسیح اور مہدی کی آمد مقدر تھی۔اگر چہ وہ گہرائی میں جا کر اس پیش گوئی کے