الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 579 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 579

548 جینیاتی انجنیئرنگ ترجمہ: اور میں ضرور انہیں حکم دوں گا تو وہ ضرور اللہ کی تخلیق میں تغیر کر دیں گے۔اور جس نے بھی اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا تو یقیناً اس نے کھلا کھلا نقصان اٹھایا۔گزشتہ زمانہ کے لوگ خدا تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی لانے کے امکان کے بارہ میں تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔یہ آیت واضح طور پر ان امکانات کا ذکر کر رہی ہے جن کا ازمنہ گزشتہ میں کوئی تصور تک نہیں تھا۔کچھ لگانا یا تھوڑی بہت سطحی تبدیلی کرنا ایک سادہ ساعمل ہے اور ہر زمانہ کے انسان کی دسترس میں رہا ہے۔لیکن یہ امکان کہ انسان خدا تعالیٰ کی مخلوق میں بڑی بڑی تبدیلیاں لے آئے، زمانہ حال سے پہلے انسانی تصور سے بعید تھا۔سائنسی علوم میں جینیاتی انجنیئر نگ کا آغاز صرف دس سے بیس سال پہلے ہوا ہے۔لیکن اس کے باوجود سائنس کی یہ شاخ بڑی تیزی سے اس سمت بڑھ رہی ہے جس کے متعلق 1400 سال پہلے قرآن کریم نے واضح طور پر تنبیہ کر دی تھی۔انسان نے ابھی سے تخلیق کے منصوبہ میں دخل اندازی شروع کر دی ہے اور بیکٹیریا اور حشرات کی سطح تک زندگی کو تبدیل کرنے میں کسی حد تک کامیاب بھی ہو گیا ہے لیکن چند قدم آگے تباہی اس کی منتظر ہے۔بعض سائنسدانوں نے تو ابھی سے آنے والی تباہی سے خبر دار کرنا شروع بھی کر دیا۔لیکن بدقسمتی سے اس میدان میں ہونے والے نت نئے تجربات کا رخ واپس پلٹ دینا ان کی بساط سے باہر دکھائی دے رہا ہے۔ماہرین جینیاتی انجنیئر نگ کے جواز کے بارہ میں دو گروہوں میں بے ہوئے ہیں۔بعض ان خطرات سے بچنے کیلئے مسلسل حجمیہ کر رہے ہیں لیکن بعض اس بات پر مصر ہیں کہ ہمیں اس میدان میں بھر پور ترقی کرنی چاہئے تاکہ تخلیق کے رازوں سے پردہ اٹھایا جاسکے۔انہیں یقین ہے کہ تکنیکی ترقیات انسان کے مستقبل کو روشن کر دیں گی۔امریکہ میں ان دونوں گروہوں کے مابین شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔خوب گرما گرم بحث جاری ہے۔ایک گروہ جینیاتی انجنیئر نگ کے حق میں ہے اور دوسرا اس کے خلاف۔جینیاتی انجنیئر نگ میں کئے جانے والے تجربات کے خلاف امریکی عدالتوں میں بعض مقدمات بھی زیر سماعت ہیں جن میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک نوع سے دوسری نوع میں جینز کے تبادلہ کے نتیجہ میں ان تجربات سے وابستہ سائنسی تو قعات پوری نہیں ہوئیں۔بعض صورتوں میں تو متوقع