الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 571
540 عالمگیر ایٹمی تباهی تھی۔آخر کا ر اب کہیں جا کر یہ عقدہ کھلتا ہوا نظر آتا ہے جس کی تمام کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ ترتیب سے جڑی ہوئی ہیں۔جب تک سائنسی لحاظ سے یہ معلوم نہ ہو کہ ایٹمی دھما کہ کس طرح ہوتا ہے اور جو ہری کمیت یہ جوہری میں کیا کیا تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، قرآن کریم میں مذکور لمبے ستونوں کے معنی مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آسکتے۔پھٹنے سے قبل جوہری کمیت کی کیفیت کو ایٹمی ماہرین اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے کوئی چیز اپنے اندر موجود بے انتہا دباؤ کی وجہ سے پھٹ پڑنے والی ہو۔یہ دباؤ ایٹم کے مرکزہ کے پھٹنے سے قبل اس کے پھیلنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔اس عمل میں ایک بڑے ایٹمی وزن والا عنصر کم ایٹمی وزن والے دو عناصر میں تقسیم ہو جاتا ہے۔نئے بننے والے عناصر کے ایٹمی وزن کا مجموعہ ابتدائی عنصر (parent-element) جو heavy metal بھی کہلاتا ہے، کے ایٹمی وزن سے کچھ کم ہوتا ہے۔اس عمل میں ایٹمی وزن کا جو معمولی سا حصہ ضائع ہوتا ہے وہ توانائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ایٹم بم کا یہی ایک واحد ماڈل نہیں ہے لیکن ہم نے لمبے ستونوں کے عمل کو بیان کرنے کیلئے یہ آسان ماڈل چنا ہے۔اب ہم اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ آگ براہ راست دلوں پر کس طرح لیکے گی۔اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔ایٹمی دھما کہ کے وقت گاماریز (gamma rays)، نیوٹرانز (neutrons) اور ایکس ریز کی ایک بہت بڑی تعداد خارج ہوتی ہے۔ایکس ریز درجہ حرارت کو فوری طور پر بے انتہا بڑھا دیتی ہیں۔نتیجہ آگ کا ایک بڑا سا گولہ بنتا ہے جو انتہائی گرم ہواؤں کے دوش پر تیزی سے بلند ہونا شروع ہو جاتا ہے۔یہ بہت بڑی کھمبی نما آگ کی چھتری میلوں دور سے نظر آتی ہے۔ایکس ریز ، نیوٹرانز کے ساتھ تمام افقی سمتوں میں بھی پھیل جاتی ہیں اور اپنی حرارت کی وجہ سے راستہ میں موجود تمام چیزوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔ان گرم لہروں کی رفتار آواز کی رفتار سے کہیں زیادہ ہے جن سے shockwaves بھی بنتی ہیں لیکن ان سے بھی کہیں زیادہ تیز اور نفوذ کرنے والی گاما ریز ہیں جو روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے ان گرم لہروں کو مات دے دیتی ہیں۔یہ بے حد مرتعش ہوتی ہیں اور اسی ارتعاش کی وجہ سے دلوں کی حرکت کو بند کر دیتی ہیں۔فوری