الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 567 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 567

538 عالمگیر ایٹمی تباهی مطلب کسی چیز کو پینا یاریزہ ریزہ کرنا ہے دوسرا حطمہ جس کے معنی بے حقیقت سے چھوٹے ذرات کے ہیں۔گویا حطمہ کسی چیز کو اس کے باریک ترین ذرات میں توڑنے کو کہتے ہیں۔ان دونوں معانی کا جائز طور پر اطلاق ان باریک ترین ذرات پر ہو سکتا ہے جن کی مزید تقسیم ناممکن ہو۔آج سے چودہ سو سال قبل ایٹم کا کوئی تصور موجود نہیں تھا لیکن صرف حُطمہ ہی ایک ایسا لفظ ہے جسے ایٹم کا قریب ترین مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب صوتی اعتبار سے بھی یہ دونوں الفاظ ملتے جلتے ہیں۔انسان ابھی اس دعوی پر حیران ہے کہ اسے حکمہ میں جھونکا جائے گا کہ ایک اور پہلے سے بھی زیادہ حیرت انگیز دعویٰ سامنے آجاتا ہے۔لفظ حُطَمہ کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن کریم اسے ایک ایسی بھڑکتی ہوئی آگ قرار دیتا ہے جو ایسے ستونوں میں بند ہے جو کھینچ کر لیے کئے گئے ہوں۔جب انسان کو اس میں جھونکا جائے گا تو یہ آگ پسلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر براہ راست دل پر لیکے گی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آگ خاصیت کے لحاظ سے عام آگ سے یکسر مختلف ہوگی جو جسم کو جلانے سے پہلے ہی دل کی حرکت کو یوں بند کر دے گی جیسے اسے روکنے والی پہیلیوں کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔نزول قرآن کے وقت یقیناً اس قسم کی آگ کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔یہاں بیان کردہ تشریح ہی حیران کن نہیں، آگے آنے والی وضاحت اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے۔جس آگ کا ذکر کیا گیا ہے وہ ایسے ستونوں میں بند ہے جو بھینچ کر لمبے کئے گئے ہوں۔اور یہ آگ ایسے وقت میں انسان پر حملہ آور ہوگی جب اس کا بے قابو ہونا مقدر ہوگا۔یہ چھوٹی سی سورۃ حیرت انگیز امور پر مشتمل ہے۔اول یہ ذکر کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب انسان چھوٹے چھوٹے ذرات میں جھونک دیا جائے گا۔پھر ان ذرات کی وضاحت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان میں ہے کیا؟ ان میں آگ ہے جو چھوٹے چھوٹے سلنڈروں میں بند ہے جن کی شکل لمبوترے بلند و بالا ستونوں جیسی ہے۔چھوٹے ذرات میں جھونکے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ایک آدمی ان میں ڈالا جائے گا بلکہ یہ لفظ وسیع معنوں میں بنی نوع انسان کیلئے استعمال ہوا ہے اور ان میں ڈالے جانے سے مراد وہ عذاب ہے جس میں اسے مبتلا کیا جائے گا جو اس کا مقدر ہے۔جب سے انسان نے ایٹم کا پوشیدہ