الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 566
عالمگیر ایٹمی تباہی عصر حاضر سے تعلق رکھنے والی بعض قرآنی پیشگوئیاں غیر معمولی طور پر عالمگیر اہمیت کی حامل ہیں۔ان میں سے ایک ایسی ہی پیشگوئی ہونے والی ممکنہ ایٹمی تباہی سے متعلق ہے۔یہ پیشگوئی اس زمانہ میں کی گئی جب ایٹمی دھماکے کا تصور کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔لیکن جیسا کہ ابھی بیان کیا جائے گا قرآن کریم کی بعض آیات میں بڑی صراحت کے ساتھ ایسے باریک ذرات کا ذکر ملتا ہے جو بے انتہا توانائی کا منبع ہیں گویا کہ اپنے اندر جہنم کی آگ سمیٹے ہوئے ہیں۔مندرجہ ذیل آیات حیرت انگیز حد تک عین اسی مضمون پر روشنی ڈالتی ہیں۔وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ تُمَرونَ الَّذِي جَمَعَ مَا لا وَعَدَّدَهُ لا يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ اخْلَدَهُ كَلَّا لَيَنْبَدَنَ في العَظمَةِ وَمَا ادريك ما الْحُطَة نَارُ اللَّهِ الْمَوْقَدَةُ التي تَطيعُ عَلَى الأفيدون إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّوصَدَةٌ فِي عَمَدٍ مُمَدَّدَونَ ( الهمزة 2:104-10) ترجمہ: ہلاکت ہو ہر غیبت کرنے والے سخت عیب جو کیلئے۔جس نے مال جمع کیا اور اس کا شمار کرتا رہا۔وہ گمان کیا کرتا تھا کہ اس کا مال اسے دوام بخش دے گا۔خبر دار وہ ضرور کلمہ میں گرایا جائے گا۔اور تجھے کیا بتائے کہ حطمہ کیا ہے۔وہ اللہ کی آگ ہے بھڑکائی ہوئی۔جو دلوں پر لپکے گی۔یقینا وہ ان کے خلاف بند رکھی گئی ہے۔ایسے ستونوں میں جو کھینچ کر لمبے کئے گئے ہیں۔ی مختصر سورۃ حیرت انگیز پیشگوئیوں کا زبردست مجموعہ ہے جن کا اس زمانہ میں کوئی تصور تک نہیں کر سکتا تھا۔کیا یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ بعض گنہ گار حکمہ میں ڈالے جائیں گے۔حکمہ سے مراد وہ مہین اور باریک ترین ذرات ہیں جو ایک نیم روشن کمرے میں سے گزرتی ہوئی روشنی کی شعاع میں تیرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔مستند عربی لغات میں محکمہ کے دو بنیادی معانی پائے جاتے ہیں۔ایک حطمہ ہے جس کا 537