الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 557
عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم confines of the heavens and the earth, then do go۔But you cannot go save with authority۔528 میرے نزدیک سیاق و سباق کے اعتبار سے الا بسلطن“ کا ترجمہ یوں ہونا چاہئے: "Except with the help of most powerful deductive logic۔" یعنی بغیر کسی غالب استخراجی دلیل کئے۔اس سے یہ مراد ہے کہ اگر چہ انسان کائنات کی حدود سے جسمانی طور پر تجاوز نہیں کر سکتا پھر بھی وہ اپنے علم کی وسعت کے اعتبار سے کائنات کے کناروں تک ضرور جا پہنچے گا۔اس نتیجہ کی تائید میں ہم مندرجہ ذیل دلائل پیش کرتے ہیں۔'save with authority' والے ترجمہ سے دراصل قرآن کریم کے منشا کے مخالف اور برعکس تاثر ابھر سکتا ہے جس میں انسان کے جسمانی طور پر خلا کی حدود تک پہنچنے کے امکان کا کلینڈ رد کیا گیا ہے۔لفظ 'سلطان' کے معنی صرف دلیل نہیں ہے۔بلکہ بیک وقت اس کے معانی طاقتور شہنشاہ ، قوی دلیل اور مضبوط استدلال کے بھی ہو سکتے ہیں۔لہذا اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ انسان مضبوط استدلال کے ذریعہ کا ئنات کی حدود پار کر سکتا ہے۔اس امر سے قطعاً انکار نہیں کیا گیا کہ انسان خلا میں ایک یا دو چھلانگیں بھی نہیں لگا سکتا بلکہ انکار اس امکان کا کیا گیا ہے کہ انسان کسی وقت اپنے مادی جسم کے ساتھ کائنات کی حدود تک پہنچ سکتا ہے۔ضمنا خلائی پرواز کے خطرات کا ذکر بھی مندرجہ ذیل آیت میں کیا گیا ہے۔يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرْنِ® الرحمن 36:55) ترجمہ: تم دونوں پر آگ کے شعلے برسائے جائیں گے اور ایک طرح کا دھواں بھی۔پس تم دونوں بدلہ نہ لے سکو گے۔یہ آیت در حقیقت عام آگ کے شعلوں کی بجائے کائناتی شعاعوں پر اطلاق پاتی ہے۔سورۃ الرحمن کی مندرجہ بالا آیات کی روشنی میں سورۃ التکویر کی بارھویں آیت کے معانی بیان کرنے کے بعد ہم سورہ التکویر کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ ہم نے سورۃ الرحمن کی ان آیات پر اپنی گفتگوختم کی تھی جن میں آگ