الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 508 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 508

482 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق سے ملکہ کو یہ معلومات فراہم کرتی ہیں وہ انسانی سمجھ سے بالا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ یہ سارے کا سارا نظام جانوروں کی دنیا میں منفرد ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ معلومات کو آگے پہنچانے والے اس زیر دست نظام کا کسی مدبر ہستی کے بغیر معرض وجود میں آجانے کے تصور سے ہی بڑے سے بڑے نیچری سائنسدان کا ذہن بھی ششدر ہو کر رہ جاتا۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ کیا یہ لوگ کبھی ان چیزوں پر بھی دھیان دیتے ہیں یا نہیں؟ جائزہ لے کر آنے والی ہر کھی کالونی میں پہنچنے کے بعد ایک خاص سمت میں ایک خاص اور عجیب وغریب ڈانس کرتی ہے۔وہ اس ڈانس اور اپنے معین رخ کے ذریعہ ملکہ تک سب معلومات پہنچا دیتی ہے۔اس ڈانس سے فراہم ہونے والی معلومات کو انسانی زبان میں بھی اس سے زیادہ بہتر او قطعی شکل میں آگے نہیں پہنچایا جا سکتا۔سیکھی ملکہ کو بتاتی ہے کہ اس نے کیا دیکھا اور کہاں دیکھا ، وہ جگہ کتنے فاصلہ پر واقع ہے اور اس کے قریب پھولوں کی کس قدر بہتات ہے۔نیز یہ کہ موجودہ کالونی سے نئی جگہ اور وہاں سے پھولوں تک کا فاصلہ کتنا ہے؟ یہ اس نئی جگہ کی مکمل تفصیل بھی بیان کرتی ہے کہ وہ کہاں تک قدرتی آفات سے محفوظ ہے۔کیا یہ کسی درخت کی کھوہ ہے۔کسی چٹان کی دراڑ ہے یا پھر کسی درخت کے تنے پر چاروں طرف سے ٹہنیوں میں گھری ہوئی کوئی جگہ۔باہر سے آنے والی کھیاں باری باری یہ ڈانس کرتی ہیں اور ملکہ سب کے ڈانس ختم ہونے کا انتظار کرتی ہے۔اس کے بعد وہ فیصلہ کر کے عین اپنی منتخب شدہ جگہ کی طرف اڑ جاتی ہے۔یوں کسی نئی جگہ پر منتقل ہو کر نئی کالونی بنانا بجائے خود ایک عجوبہ ہے۔آخر میں یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ شہد کی مکھیوں کا خود کو اور چھتے کو صاف ستھرا رکھنے کا معیار اتنا بلند ہے کہ اس کے بالمقابل جدید ترین ہسپتالوں اور کلینکس کی صفائی کو کوئی دور کی نسبت بھی نہیں ہے۔تحقیق کرنے والے سائنسدان یہ دریافت کر کے حیران رہ گئے کہ مختلف قسم کے وائرس اور جراثیم سے آلودہ مچھر کے برعکس شہد کی مکھی کے جسم پر کسی بھی قسم کے وائرس یا جراثیم موجود نہیں ہیں۔چنانچہ اس کی وجہ معلوم کرنے کیلئے انہوں نے ایک نئی تحقیق کا آغاز کیا تو ان پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ شہد کی مکھیاں ایک خاص قسم کا جراثیم کش مادہ تیار کرتی ہیں جسے وہ مخصوص درختوں کی گوند سے اکٹھا کرتی ہیں جسے پر ایلس (propolis) کہا جاتا ہے۔اس مادہ میں ہر قسم کے وائرس اور جراثیم کو ہلاک کر دینے کی حیرت انگیز صلاحیت پائی جاتی ہے۔شہد کی مکھیاں اپنے چھتہ کے