الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 479
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 457 میں ارتقائی عوامل پر اس انداز میں گفتگو کر چکے ہیں جس کی روشنی میں ڈارون کے اصولوں کا غلط اور بیچا اطلاق ممکن نہیں رہتا اس لئے ہمیں امید ہے کہ ارتقا کے تصور کو زیادہ بہتر رنگ میں سمجھنے کیلئے ہماری یہ تحقیق علوم طبعی (Natural Sciences) کے طلباء کیلئے مفید ثابت ہوگی۔ہمارا موقف ان مذہبی اور سائنسی سکالرز سے قطعی طور پر مختلف ہے جنہوں نے بالخصوص ڈارون کے نظریات کی مخالفت کی ہے۔ہماری یہ تحقیق سائنسی لٹریچر کے عمومی مطالعہ پر مبنی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر چہ ہم نے ڈارون کے نظریات کے خلاف تحریر کردہ کتب کا مطالعہ تو نہیں کیا لیکن بایں ہمہ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہماری تحقیق ان سے قطعی طور پر مختلف ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کتاب کی تالیف کے دوران ہمیں ہمیشہ قرآن کریم کی رہنمائی حاصل رہی ہے جو بد قسمتی سے ڈارون کے مخالف سائنس دانوں کو نصیب نہیں ہوئی۔۔پروفیسر ڈاکٹر کی انقلابی سوچ کے حوالہ سے یہ عرض کرنا مناسب ہوگا کہ جینز کی کارکردگی جینز کے اندر ودیعت کئے گئے قوانین کے تابع ہوتی ہے جن سے پروفیسر موصوف کلی بے خبر ہیں۔جینز ماحولیاتی تبدیلیوں سے بے نیاز ہو کر اپنا کام سر انجام دیتے ہیں۔حتی کہ جب انتخاب طبعی کا اصول کسی جاندار میں کوئی جسمانی تبدیلی کرنا چاہتا ہے تب بھی وہ اس جسم میں موجود جیز کی سرگرمیوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔اسی طرح جب انتخاب طبعی اس کا رزار حیات میں بقا کی خاطر بعض جسمانی تبدیلیوں کو رد کر دیتا ہے تب بھی جینز پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور اول تا آخر ارتقا کے مطالعہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔قدیم جاندار اجسام مثلاً امیبا(amocbas) اور ان کے بعد آنے والی دیگر ابتدائی انواع حیات جو نسبتاً زیادہ ترقی یافتہ تھیں سب کی سب جینز کے تحت کام کرنے والے خلیات کی کارکردگی کا نتیجہ تھیں۔حیرت تو یہ ہے کہ قدیم انواع حیات بظاہر عدم صلاحیت کے باوجود مع اپنے جینز کے ارتقا کے سارے عمل سے بال بال بچ گئے۔بالآخر ارتقا کے نقطہ کمال کے طور پر انسان کا ظہور ہوا۔عالم حیوانات اور انسان کے مابین اتنی وسیع خلیج حائل ہے کہ در حقیقت ایک سائنسدان تو بتدریج وقوع پذیر ہونے والی ایسی ارتقائی تبدیلیوں کا تصور بھی نہیں کر سکتا جو اس خلیج کو پاٹ سکیں۔ہم یہاں ان عام جسمانی مشابہتوں کا ذکر نہیں کر رہے جو ڈارون نے بیان کی ہیں۔نظریہ ارتقا کے حامی ایک ایسی گمشدہ کڑی کی بات