الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 457 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 457

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 439 اتفاق سے پرندوں میں ہی ایک اور اسی قسم کی مثال موجود ہے جو منفرد اور ان کی ضرورت کے عین مطابق ہے اور اس سے یہ پرندے اپنی ہی ایک ایسی صلاحیت کے مضر اثرات سے محفوظ رہتے ہیں جو انہیں دیگر تمام جانوروں کی سلطنت سے ممتاز کرتی ہے۔ہد ہد بڑی بیدار مغزی سے درخت کی چھال میں موجود کیڑوں کے رینگنے کی آواز سن کر ایک سیکنڈ میں سینکڑوں مرتبہ اپنی چونچ چھال پر مارتا ہے۔نیتی کیڑے گھبرا کر باہر نکل آتے ہیں اور ہد ہد انہیں اپنی پھلیلی زبان سے اچک لیتا ہے۔یہ ضرب اتنی تیز ہوتی ہے کہ ایک مسلسل حرکت نظر آتی ہے۔یہ خوبی صرف ہد ہد ہی سے خاص ہے۔اس کی ایک اور منفر د خصوصیت اس کے دماغ کی ان تیز رفتار جھٹکوں سے حفاظت کا نظام ہے۔دراصل اس کی چونچ اور دماغ کے درمیان بعض ایسی بافتیں موجود ہیں جو اس کے دماغ کو ان تیز جھٹکوں کے اثر سے محفوظ رکھتی ہیں۔کوئی اور پرندہ نہ ہی اس طرح اپنی چونچ کا استعمال کرتا ہے اور نہ ہی اس میں یہ بافتیں موجود ہوتی ہیں۔کسی جانور کی اپنی ہی کسی خوبی کے مضر اثرات سے محفوظ رہنے کی یہ ایک اور مثال ہے۔کیا کوئی ماہر حیاتیات اس بات کی وضاحت کر سکتا ہے کہ انتخاب طبعی نے بذات خود یہ انتخاب کیسے کر لیا ؟ اب ہم دوبارہ کان، آواز کی لہروں اور sonar آلات کے موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔تاریکی کے پرندوں کے ذکر کے بعد ہم بغور جائزہ لیں گے کہ گدلے سمندروں اور دریاؤں مثلاً سندھ، گنگا اور ایمزون کی گہرائیوں میں رہنے والے جانور ان گدلے پانیوں کی تاریکی میں نقل و حمل اور باہمی رابطہ کیسے کر لیتے ہیں۔ڈالفن (Dolphin) میں ایک نہایت حیران کن اور عمدہ صوتی آلہ موجود ہوتا ہے جو نہ صرف کھلے سمندروں میں بلکہ گدلے دریاؤں کی دلدلی نہ میں بھی ان کے کام آتا ہے۔کیچڑ کی موٹی تہوں میں انہیں چند انچ آگے تک بھی کچھ نظر نہیں آتا۔اس لئے انہیں آنکھوں کے ساتھ ساتھ ایک مکمل sonar نظام کی ضرورت ہوتی ہے جو نظام تمام ڈالفنز میں موجود ہوتا ہے۔یہ نظام اتنا پیچیدہ اور مربوط ہوتا ہے کہ اس کے لئے خصوصی مطالعہ کی ضرورت ہے۔ڈالفن کے سر میں مخصوص گزرگاہیں اور خلا رکھے گئے ہیں جن کے ذریعہ ہوا میں دباؤ پیدا ہوتا ہے جو سر کے اوپر کے سے ٹکراتا ہے۔ان ڈالفنز کے ماتھے پر چربی سے بھرا ہوا بیضوی شکل کا عضو ہوتا ہے جسے