الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 439 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 439

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 425 طور پر کیا گیا ہے۔لفظ ”اگر“ کے مشروط استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر انسان اپنی اصلاح کر لے اور درست رویہ اپنا لے تو ضروری نہیں کہ اس کے باوجود انسان کو بحیثیت نوع صفحہ ہستی سے نابود کر کے اس کی بجائے کوئی بہتر مخلوق لائی جائے۔چنانچہ قرآن کریم ایک ایسی ترقی یافتہ نوع کے ظاہر ہونے کے امکان کا ذکر کرتا ہے جو زیادہ بہتر حواس رکھتی ہو یا حواس خمسہ سے زائد بعض نئی حسیات کی مالک ہو۔اگر چہ قرآن کریم قطعیت کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ ضرور ایسا ہی ہوگا تا ہم یہ اعلان ضرور کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی تبدیلیاں لانے پر قادر ہے جو اس کے قانون قدرت میں داخل ہیں۔قرآن کریم کسی ایسے اندھے ارتقا کا تصور پیش نہیں کرتا جس کی بنیاد حادثاتی واقعات پر ہو بلکہ یہاں مذکور ایک جاری وساری ارتقا کا امکان بجائے خود قرآن کریم نازل کرنے والی ہستی کے علم و حکمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گزشتہ ابواب میں ارتقائے حیات کے متعلق جو کچھ قرآن کریم کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے وہ بھی لازماً درست ہو گا۔بصورت دیگر قرآن کریم انسان کے تدریجا کسی دوسری نوع میں تبدیل ہونے کے امکان کا ذکر ہی نہ کرتا۔یہ ایک ایسا مضمون ہے جس کا کسی اور مذہبی یا غیر مذہبی لٹریچر میں ذکر تک نہیں ملتا۔ایسا بیان کامل اور یقینی علم کی بنا پر ہی دیا جا سکتا ہے۔ممکن ہے کہ ہمیں ابھی تک اپنے مسلسل ارتقا کے امکانات یا ایک بالکل نئے ارتقائی سلسلہ کے آغاز کا پورا اور اک ہی نہ ہو۔کیونکہ ہمارا فہم و ادراک تو فقط موجودہ علم تک ہی محدود ہے۔چنانچہ ہمارے لئے یہ امرا بھی تک پردہ غیب میں ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ غیب مسلسل شہود میں بدلتا چلا جا رہا ہے۔اور حصول علم کا فطری طریق بھی یہی ہے۔اللہ تعالیٰ ظاہر اور غیب سب کا مالک ہے۔وہی بتدریج ہمارے ذہنی افق کو کشادہ کرتا ہے تا کہ ہمارا شعور ماضی کے نامعلوم حقائق کو معلوم کر کے مسلسل ترقی پذیر رہے۔