الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 438 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 438

424 وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍن وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللهِ بِعَزِيرٍ کرۂ ارض پر زندگی کا مستقبل (ابراهيم 20:14-21) ترجمہ: کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔اگر وہ چاہے تو (اے انسانو!) تمہیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے اور اللہ پر وہ کچھ مشکل نہیں۔ان آیات کا اطلاق حیات بعد الموت پر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان میں مذکورہ حرف شرط " " جس کے معنے اگر کے ہیں، واضح طور پر بتا رہا ہے کہ یہاں حیات بعد الموت مراد نہیں ورنہ یه حرف شرط اخروی زندگی جو ایک یقینی امر ہے، کو مشکوک بنا دے گا جبکہ سارا قرآن کریم عالم آخرت کو قطعی اور لابدی حقیقت قرار دیتا ہے۔زیر بحث آیت میں انسان کی جگہ اسی کے مشابہ مخلوق لانے کا ذکر نہیں ہے۔بلکہ اس میں واضح طور پر ایک نئی مخلوق کی تخلیق کا ذکر ہے جیسا کہ لفظ خلق سے ظاہر ہے۔نیز یہ کہ تمام بنی نوع انسان کو ایک مختلف مخلوق سے بدل دیا جائے گا۔ساری کائنات کی بنیاد حق پر رکھی گئی ہے، بشمول انسان جو اشرف المخلوقات ہے۔حیات بعد الموت کے مضمون سے بالکل ہٹ کر قرآن کریم کرہ ارض پر حیات کی ایک بالکل مختلف حالت کا ذکر کرتا ہے جو انسانوں کی جگہ لے لے گی: نَحْنُ خَلَقْتُهُمْ وَشَدَدْنَا أَسْرَهُمْ وَإِذَا شِئْنَا بَدَلْنَا أَمْثَالَهُمْ تَبْدِيلًا ( الدهر 29:76) ترجمہ: ہم نے ہی ان کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط بنائے ہیں اور جب ہم چاہیں گئے ان کی صورتیں یکسر تبدیل کر دیں گے۔فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِنَّا لَقَدِرُونَ عَلَى أَنْ تُبَدِّلَ خَيْرًا مِنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ (المعارج 41:70-42) ترجمہ: پس خبردار! میں مشارق اور مغارب کے رب کی قسم کھاتا ہوں یقینا ہم ضرور قادر ہیں اس پر کہ انہیں تبدیل کر کے ہم ان سے بہتر لے آئیں اور ہم پر سبقت نہیں لے جائی جاسکتی۔اس دوسری مخلوق کا ذکر نہ تو کسی الگ قوم کے طور پر اور نہ ہی انسانوں کی کسی علیحدہ نسل کے