الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 413
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 401 بالا راده منصوبہ کے تحت ہوتی ہے۔عالم حیوانات میں مچھر کے تمام تر منفی کردار کا یہی سبب ہے۔اگر اپنے میزبان کے خون میں لعاب کے ذریعہ apyrase خامرہ کو شامل کرنا مادہ مچھر کیلئے طبعاً لازم نہ رکھا جاتا تو دنیا بھر کے مختلف قسم کے جانوروں میں بیماری پھیلانے کا وسیع منفی کردار کسی طور بھی ممکن نہ تھا۔مچھر کی تمام تر جسمانی ساخت اسی مقصد کے حصول کے لئے تشکیل دی گئی ہے۔اب تک سائنسدانوں کے علم میں آنے والی وائرس کی تقریباً پانچ سو اقسام میں سے آدھی مچھروں میں پائی جاتی ہیں۔ان میں سے سو کے قریب تو صرف انسانوں میں بیماری پھیلانے کا باعث ہیں۔بعض مچھر جانوروں کی دیگر انواع کو اپنا میزبان بناتے ہیں تا ہم ان میں بھی ایسے وائرس موجود ہوتے ہیں جو انسانوں میں بیماری پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔مثلاً کچھ وائرس ان مچھروں کے ذریعہ جو انسان اور بندر دونوں سے خوراک حاصل کرتے ہیں، بندر سے انسان یا انسان سے بندر میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ضروری نہیں کہ مچھر اپنے اندر ایک ہی قسم کے وائرس رکھتے ہوں بلکہ یہ بیک وقت مختلف اقسام کے وائرس کے حامل بھی ہو سکتے ہیں۔نیز یہ بھی ممکن ہے کہ مچھر ایک خاص ماحول میں وائرس کو منتقل کرنے میں بہت فعال ہوں جبکہ دوسرے ماحول میں انتہائی سست ثابت ہوں۔مچھر کے ذریعہ عالمگیر اور علاقائی سطح پر پھیلنے والی بیماریوں میں ملیر یا سر فہرست ہے۔اس کے علاوہ دیگر مشہور بیماریوں میں فلیرس (Filariasis) ، زرد بخار، ڈینگی فیور (لال بخار ) اور این سیفا لائٹس (Encephalitis) وغیرہ شامل ہیں۔علاوہ دیگر جانوروں کے مچھر نے صرف انسان کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ بہت ہولناک ہے۔ضروری نہیں کہ ملیر یا براہ راست موت کا باعث بنے بلکہ یہ مریض کے عضویاتی نظام کو بالکل درہم برہم کر دیتا ہے جس کی وجہ سے بہت سی خطرناک بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ملیر یا اگر چہ دنیا میں اموات کا سب سے بڑا سبب ہے لیکن اسے ہمیشہ ان اموات کا ذمہ دار نہیں سمجھا جاتا۔ملیریا کے باعث واقع ہونے والی بہت سی اموات کا تیسری دنیا کے ممالک میں یا تو کہیں اندراج ہی نہیں ہوتا یا ان اموات کا سبب ملیریا کو خیال نہیں کیا جاتا۔ملیریا کے اکثر مریض ملیریا والے علاقوں میں اس بیماری کے اثرات کے باعث تپ دق یا نمونیہ کی وجہ سے مر