الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 384 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 384

376 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح وقت سردی سے بچاؤ کیلئے درکار ہوا ان کے بالوں میں ٹھہر نہیں سکتی۔خشک ہونے پر ان کے سفید بال سورج کی شعاعوں سے حاصل کردہ حرارت کو واپس جسم کی طرف منعکس کرتے ہیں۔ان کے بال کھو کھلے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سورج کی تمام بالائے بنفشی شعاعیں ان میں سے بآسانی گزر کر سیاہ جلد میں جذب ہو جاتی ہیں۔برفانی ریچھ کی ایک اور نمایاں خاصیت اس کے پنجوں کا بڑا ہونا ہے۔یہ بہت چوڑے اور نوکیلے ناخنوں سے لیس ہوتے ہیں تا کہ اپنے شکار کو چیر پھاڑ سکیں اور برف پر اپنے قدم جما سکیں۔ان کے تلووں پر بھی سفید بالوں کی ایک نہ ہوتی ہے جو چلتے وقت برف پر ان کی گرفت کو مضبوط اور انہیں ٹھنڈک سے محفوظ رکھتی ہے۔حیرت انگیز طور پر برفانی ریچھ برف پر اتنا تیز بھاگ سکتے ہیں جتنا ایک تیز رفتار کتا میدانی علاقہ میں بھاگ سکتا ہے۔اس علاقہ میں موسم سرما کی غیر معمولی لیبی راتوں میں یہ ناممکن نظر آتا ہے کہ برفانی ریچھ کسی ایسے تالاب تک پہنچ سکیں جہاں سیل (Seal) پائی جاتی ہے۔لیکن قدرت نے انہیں سونگھنے کی اتنی غیر معمولی قوت بخشی ہے کہ اندھیرا ان کی راہ میں روک نہیں بن سکتا۔ماہرین کے مطابق و200 کلومیٹر کے فاصلہ سے بھی سیل ، گوشت اور مردار کی بو سونگھ لیتے ہیں۔ان کی بصارت کی حس بھی سونگھنے کی حس کی طرح تیز ہے جو عام ریچھ کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔دن کی روشنی میں یہ بہت دور سے سیل کو دیکھ لیتے ہیں جس کے بعد وہ بڑے حیرت انگیز صبر سے اس کا شکار کرتے ہیں۔چت لیٹ کر اور اگلے پاؤں کو دوہرا کر کے پیٹ کے ساتھ لگا لیتے ہیں اور صرف پچھلے پاؤں سے جسم کو دھکیلتے ہوئے رینگتے جاتے ہیں۔وہ بہت عیاری کے ساتھ خود کو دوسروں سے چھپانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔بعض اوقات وہ اپنی سیاہ تھوتھنی چھپانے کیلئے اپنے منہ کے سامنے برف کی ڈھیری سی بنا لیتے ہیں یا پھر ناک کو اپنے سفید پنجوں سے چھپا لیتے ہیں تاکہ کوئی ان کو دیکھ نہ سکے۔برفانی ریچھ کا اکثر وقت پانی میں گزرتا ہے۔اس ماحول کے حوالہ سے وہ اپنے اندر منفرد خصوصیات رکھتا ہے۔اس کا برف پر سیل کی گھات لگانے کا طریق الگ ہوتا ہے۔لیکن پانی میں یہ اپنی ٹانگوں کا استعمال بالکل الٹ طریقہ سے کرتا ہے۔پچھلی ٹانگوں کی بجائے جو پانی میں پتوار کے طور پر استعمال ہوتی ہیں یہ تیرنے کیلئے اپنی اگلی ٹانگوں کو استعمال کرتا ہے۔اس کے اگلے پنجے