الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 382
374 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح چنانچہ وہ تمام تخلیقی عوامل جوان اعضا کی تخلیق کا پیش خیمہ تھے کے متعلق ہم نے اس کتاب میں ایک علیحدہ باب باندھا ہے جس میں آنکھ کی تخلیق کو مرکزی مقام حاصل ہے۔بد قسمتی سے ماہرین حیاتیات نے کسی بھی نوع کے ارتقائی مراحل میں اس کی طبعی خصوصیات کو اس کے حواس پر ضرورت سے زیادہ ہی ترجیح دی ہے۔ایک وسیع مرغولہ نما ارتقائی چکر میں طبعی تغیرات کا کسی خاص سمت میں وقوع پذیر ہونا اتنی اہمیت کا حامل نہیں جتنی اہمیت شعور اور سوچنے اور مجھنے کی صلاحیت کے ارتقا کی ہے۔زندگی شعور کے سوا اور ہے کیا، جبکہ موت عدم شعور کا نام ہی تو ہے؟ یہ حیرت انگیز معجزہ محض خلیاتی تبدیلیوں اور لحمیات کی سطح پر ہونے والے مالیکیولز کی پیچیدگیوں تک ہی محدود نہیں بلکہ حیات کے آغاز کا اصل معجزہ اس وقت ظاہر ہوا جب پہلے سے موجود بے جان کائنات کے افق پر شعور کے آثار نمودار ہوئے۔حیات کا یہ سفر آغاز ہی سے ضعف سے طاقت اور وحدت سے کثرت کی طرف جاری رہا۔اگر ڈارون کے اس محدود نظریہ کو مان لیا جائے کہ جسمانی تبدیلیاں اتفاقی طور پر انتخاب طبعی“ کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں تو ارتقا کا مفہوم کسی صورت میں بھی سمجھ میں نہیں آسکتا۔اس کے معانی اسی صورت میں سمجھ میں آسکتے ہیں جب ان حواس خمسہ کا کما حقہ ادراک حاصل ہو جائے جنہوں نے ارتقا کے پچھلے ایک ارب سال کے پُر خطر سفر کے نتیجہ میں بالآخر موجودہ شکل اختیار کی ہے۔اگر انسان اپنے موجودہ مقام سے مڑ کر اور نیچے کی طرف دیکھے تب کہیں جا کر اس پر زندگی کے ارتقا کا صحیح مفہوم واضح ہو سکے گا کہ کس طرح خفیف سے خفیف آگے کی طرف حرکت کے ساتھ آہستہ آہستہ ارتقا کا یہ عمل لامتناہی سیڑھیاں چڑھتا ہوا موجودہ مقام تک پہنچا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عمل ارتقا کے مقصود اور اس کے مفہوم کا راز حواس خمسہ کی تخلیق و ترقی ہی میں مضمر ہے جن میں سے ہر حس اپنی ذات میں تخلیق کی حیرت انگیز شاہکار ہے اور ان حواس کی تخلیق اعلیٰ پیمانہ کے اس بہترین ڈیزائن پر شاہد ہے جس میں توازن اور ہم آہنگی کو فوقیت حاصل ہے۔یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ قرآن کریم نے ارتقا کے مضمون کو خلاصہ ان تین آسان سی اصطلاحات کے ذریعہ بار ہا بیان فرمایا ہے یعنی سنے، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کی تخلیق اور ان کا کمال۔چنانچہ فرمایا: وَاللهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَ