الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 378
370 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح طور پر بغیر کسی منصوبہ کے بعض انواع کا اندھا دھند انتخاب کرلے گا اور باقی انواع کو جو اس کے رستہ میں حائل ہوئیں روند تا چلا جائے گا۔امید ہے کہ اب تک قارئین ”بقائے اصلح“ اور ” انتخاب طبعی کے راستہ میں درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہوں گے۔یادر ہے کہ انتخاب طبعی ایک ایسی اصطلاح ہے جس کے دائرہ کار کے تمام پہلوؤں کا مکمل طور پر ہم نے جائزہ نہیں لیا اور موجودہ مضمون کے حوالہ سے اس نظریہ کے صرف ایک معین پہلو پر ہی خاص طور پر بحث کی ہے۔جب نسبتاً زیادہ ترقی یافتہ انواع حیات کے حوالہ سے ڈارون کے نظریہ ارتقا کا مشاہدہ کیا جائے تو انتخاب طبعی کا کردار بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔لیکن اس ضمن میں بھی جہاں تک صحیح اقدار کو قبول کرنے اور غلط اقدار کو رد کرنے کا تعلق ہے یہ نظریہ نا کافی ثابت ہوتا ہے۔اس جگہ اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں انتخاب طبعی کے عمل کے پاس ایسا کوئی نظام موجود نہیں جس کے ذریعہ وہ بیرونی ضروریات کے مطابق خلیات کے اندر بھی تبدیلی پیدا کر سکے۔کروموسومز (Chromosomes) اور خصوصیات کا تعین کرنے والے جینز پُر آشوب بیرونی تبدیلیوں کی رسائی سے بہت دور ہوتے ہیں۔وہ قدرتی قوانین جوان میں کارفرما ہیں سردی اور گرمی یا خشکی اور نمی کے بے لگام اثرات سے یکسر محفوظ ہوتے ہیں۔ان ہر دو عوامل کا ایک دوسرے سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔"انتخاب طبعی کا عمل صرف اور صرف اس وقت حرکت میں آتا ہے جب مرحلہ وار یا بلا ترتیب جینیاتی تبدیلیوں کے باعث بہت سے متبادل راستے کھل جاتے ہیں۔اتفاقی طور پر معرض وجود میں آنے والے باہمی مقابلہ سے بھر پور زندگی میں صرف انہی جانداروں کی بقا ممکن ہے جو یہ ثابت کر سکیں کہ وہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کی سب سے زیادہ اہلیت رکھتے ہیں۔مقابلوں کی نوعیت میں تبدیلی کے ساتھ ہی موزوں ترین“ کی تعریف بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔پس یہ سمجھنا کہ انتخاب طبعی تمام بدلتے ہوئے حالات کے باوجود ہمیشہ بہترین خصوصیات کو ترجیح دیتا ہے ایک غلط فہمی ہے جسے ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ دینا چاہئے۔بے شک کبھی کبھار تو ایسا ہو سکتا ہے لیکن اکثر اوقات ایسا نہیں ہوتا۔”انتخاب طبیعی کوئی معین چیز نہیں بلکہ محض ایک نسبتی امر ہے۔بقا کیلئے مقابلہ ایک ہی نوع کے ارکان کے درمیان بھی ہوسکتا ہے اور