الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 377
الهام ، عقل ، علم اور سچائی ** 369 ضرورت ہوتی ہے۔اگر اس منظر کو ایک ڈرامہ کی شکل دی جائے تو اس کا خاکہ کچھ اس بھیا نک انداز میں سامنے آتا ہے جہاں سب جانور تھکن سے چور اور بھوک سے نڈھال یکے بعد دیگرے جان کی بازی ہارتے چلے جاتے ہیں۔اس کے بچے ہوئے کرداروں میں سے کچھ زرافے ، کچھ حشرات الارض اور نیولہ کی قسم کے بعض جانور نظر آئیں گے اور اس وقت اگر داد دینے کا کوئی موقع ہو تو وہ محض ان کی تالیوں اور زرافہ کی ہنہناہٹ کی صورت میں سنائی دے گا بشرطیکہ اس میں ہنہنانے کی ذراسی بھی قوت باقی رہی تو وہ اپنے بیچ نکلنے پر پھولا نہ سمائے گا۔کیا اسی کو موزوں ترین کی بقا کہتے ہیں اور کیا سائنسدانوں کے نزدیک انتخاب طبعی سے یہی مراد ہے جس کے بارہ میں وہ رطب اللسان ہیں؟ کیا زرافہ، نیولہ کی قسم کے جانور اور حشرات الارض کی بیچ نکلنے والی انواع ہی ارتقائی عمل کا آخری ماحصل ثابت ہوں گی؟ ایک ارب سال کے عرصہ میں یکے بعد دیگرے شدید قسم کے موسمی تغیر و تبدل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اس دور میں زندگی کبھی شدید سردی کی لپیٹ میں آجاتی تو کبھی سخت گرمی کا شکار ہو جاتی۔کبھی شدید خشک سالی کا دور دورہ ہوتا تو کبھی متواتر بارشوں کا موسم۔موسمی اتار چڑھاؤ کے باعث بہت سی بیماریوں نے بھی ڈیرہ ڈال دیا ہو گا۔بدلتے ہوئے ان حالات میں یہ ناممکن ہے کہ ہمیشہ زرافہ، نیولہ اور حشرات الارض ہی زندہ رہ سکیں۔مختلف حالات میں ” بقائے اصلح کے اصول کے تحت صرف ایک دوسرے سے مختلف قسم کی انواع ہی زندہ رہ سکتی ہیں۔اس کا دارو مدار ہر نا گہانی آفت کے بعد پیدا ہونے والے ماحول کی اپنی ترجیح پر ہے۔ایک ارب سال کے عرصے کے ارتقائی مراحل پر محیط سفر کے دوران زندگی کو جن مختلف قسم کے خطرات اور حادثات کا سامنا تھا ان کی موجودگی میں اس کے بچ رہنے کے بارہ میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ہر دور میں مختلف قسم کے نازک مراحل در پیش ہوتے ہیں جن کے اہداف بھی اکثر اوقات مختلف ہوتے ہیں۔چنانچہ جانوروں کی تمام کی تمام انواع کا اب تک زندہ رہنا ناممکن نظر آتا ہے۔کچھ جانداروں کیلئے بعض زہریلے مادے دوسرے جانداروں کیلئے خوراک بن جاتے ہیں۔پس انتخاب طبعی کے اس اندھے قانون کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ قانون حادثاتی