الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 357
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 351 پر مامور ہے۔اس سطح پر اس عمل کا مشاہدہ آسان ہے۔یہ طبعی طور پر جاری ہے اور کسی معین نظام کا متقاضی نہیں ہے۔تاہم یہ قانون صرف مختلف انواع کے باہمی مقابلہ میں ہی کارفرما نہیں ہے۔زندگی کے بعض پوشیدہ افعال میں یہ قانون زیادہ لطافت اور نسبتاً غیر محسوس طریق پر جاری ہے۔رحم مادر میں پیدا ہونے والے ہر بچہ کی خاطر حمل کے ارب با ارب امکانات رد کر دیئے جاتے ہیں۔اکثر لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ ہر صحتمند مرد کو قدرت نے اتنی تولیدی طاقت بخشی ہے کہ وہ ایک اوسط عمر میں اربوں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر ایک مرد کی ساری زندگی میں صرف چند خوش قسمت جرثومے ہی مادہ کے بیضہ سے ملنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور بچہ کی ممکنہ پیدائش کا سبب بنتے ہیں۔ایک ایسے قدیم معاشرہ میں جہاں تعدد ازدواج پر کوئی پابندی نہیں ایک شخص سینکڑوں بچوں کا باپ ہونے پر نازاں ہو سکتا ہے مگر مادہ کے بیضہ کو بار آور کرنے والے جرثوموں کی ان جرثوموں کی تعداد سے کوئی نسبت ہی نہیں جن سے ممکنہ طور پر بچہ پیدا ہو سکتا تھا۔مگر قدرت کے انتخاب میں ناکام رہنے والے یہ اربوں جراثیم بھی دراصل بے مقصد ضائع نہیں جاتے۔ان کی موت اس بات کی ضمانت ہے کہ ان میں سے بہترین اور باقی رہنے کا سب سے زیادہ اہل جرثومہ ہی اگلی نسل کا آغاز کرے گا۔اسی طرح یہ بات بھی حیران کن ہے کہ آخر کون سا ایسا اتفاق تھا جس کے نتیجہ میں مادہ میں تو صرف ایک بیضہ جبکہ نر میں اربوں جراثیم پیدا ہوتے ہیں۔اگر مادہ میں بھی اسی طرح ہوتا تو ہر شادی شدہ یا غیر شادی شدہ جوڑا اتنے بچے پیدا کرتا کہ دنیا کے اقتصادی مسائل میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا۔پس زندہ رہنے کی جدوجہد میں بہت بڑی تعداد میں افراد کو ارتقائے حیات کے سفر کی ایک چھوٹی سی منزل سر کرنے کے لئے قربان کرنا پڑتا ہے۔مگر ایک دفعہ موت کے آہنی پنجہ سے بچ نکلنا ہرگز زندگی کے اس کھیل کا اختتام نہیں ہے۔بچ رہنے والے اپنی زندگی کے ہر لمحہ موت کے خطرات سے دوچار ہیں۔یہی وہ منڈلاتے ہوئے خطرات ہیں جن کے بارہ میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ خدا ہرلمحہ فرشتوں کے ذریعہ زندگی کی حفاظت فرماتا ہے۔چنانچہ نہ تو موت کوئی اتفاق ہے اور نہ ہی زندگی بلکہ یہ دونوں رات اور دن کی طرح پہلو بہ پہلو شعوری طور پر زندگی کا تانابانا بنتے چلے جاتے ہیں۔