الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 351
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 345 اسے کس طرح آسمان کے اس حصہ میں پھینک سکتی تھی جہاں اس کی شدید ضرورت تھی۔یہ ہے تو ایک پہیلی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک لطیفہ بھی ہے۔پنجابی کہاوت ہے کہ: ماں جمی نہیں تے پُت کو ٹھے تے - اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ماں کے پیدا ہونے سے پہلے ہی بیٹا چھت پر بھاگتا پھر رہا ہے۔پنجابی میں تو یہ محض ایک لطیفہ ہے جس کا مقصد مخالف کی دلیل کو خارج از امکان قرار دینا ہے۔مگر یہاں ہم ایسے ہی ایک مسئلہ سے دو چار ہیں جو سائنسدانوں کے خیال میں بالکل اسی طرح در پیش ہے۔یہ مسئلہ کسی با مقصد اور تخلیقی منصوبہ بندی کے بغیر حل ہو ہی نہیں سکتا۔ہم اس زمانہ کی بات کر رہے ہیں جب آکسیجن جو اوزون کی ماں کے مشابہ ہے سرے سے موجود ہی نہ تھی۔لیکن اس کا بچہ اوزون کی شکل میں بالائی کرہ ہوائی پر چوکڑیاں بھرتا پھر رہا تھا۔یہاں ایک اور بات بھی غور طلب ہے کہ اوزون، بالائے بنفشی (Ultraviolet) شعاعوں کو یکسر تباہ نہیں کر سکتی۔سب سے بڑے طول موج والی شعاعیں اوزون کی تہ کے آر پار بآسانی گزر کر سطح ارض کے قریب آ پہنچتی ہیں اور زمین پر رہنے والے جانداروں کیلئے کسی قسم کے خطرہ کا باعث نہیں بنتیں۔بلکہ اس کے برعکس اسی طول موج پر وہ انسانوں سمیت تمام ممالیہ جانوروں میں وٹامن ڈی کی تیاری میں مد ہوتی ہیں۔انسان یہ سوچ کر حیران رہ جاتا ہے کہ اربوں اندھے اتفاقات کے نتیجہ میں یہ عجوبہ کیسے وقوع پذیر ہوا کہ ہر چیز کی تکمیل نہایت بار یک حسابی ترکیب، نہایت عمدہ ڈیزائن اور نہایت خوبصورت طریق پر ہو پائی۔با قاعدہ منصوبہ بندی کے برعکس انتخاب طبعی کے طریق میں مختلف قسم کے لاکھوں ماحول درکار ہوں گے تا کہ لاکھوں کروڑوں زمینوں میں اربوں کھربوں اتفاقات کے نتیجہ میں صرف ایک زمین ہی مین درست تناسب کے ساتھ اچانک تخلیق ہو جائے جو حیات کے لئے مناسب اور ساز گار ہو۔اوزون کے بارہ میں ایک اور دلچسپ بات اس کی ترکیب و تالیف سے متعلق ہے۔طاقتور بالائے بنفشی شعاعوں کے آکسیجن سے ٹکرانے کے نتیجہ میں اوزون پیدا ہوتی ہے اور آکسیجن کا مالیکیول پھٹ کر اپنی آیونی (ionic) شکل اختیار کر لیتا ہے۔بالفاظ دیگر اٹامک آکسیجن میں تبدیل ہو جاتا ہے۔پھر آکسیجن کے یہ آزاد ایٹم ایک دوسرے میں جذب ہو کر اوزون یعنی