الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 350
344 بقا : حادثه یا منصوبه بندی ؟ آغاز حیات کے راز کھل سکیں۔حیاتیاتی ارتقا سے قبل دنیا پر ایک بہت طویل عرصہ ایسا گزر چکا ہے جو سائنسدانوں کیلئے ہمیشہ ایک معمہ بنا رہا ہے۔اگر اس وقت کی فضا میں آکسیجن آزاد حالت میں موجود ہوتی تو حیاتیاتی ارتقا سے قبل زندگی کی جو شکل موجود تھی اسے آکسیجن کی موجودگی میں مکمل طور پر تباہ ہو جانا چاہئے تھا۔اگر اسے آکسیجن کے مہلک اثر سے بچانے کیلئے معین اقدامات نہ کئے جاتے تو زندگی کی کوئی شکل باقی نہ رہتی۔چنانچہ یہ ایک عظیم الشان انکشاف تھا کہ اس دور میں آزاد شکل میں کوئی آکسیجن موجود نہیں تھی۔اس بات کا علم ہو جانا کہ زمین کے نزدیک کا کرہ ہوائی آزاد آکسیجن سے خالی تھا ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔بایں ہمہ اس مرحلہ پر بعض مزید الجھا دینے والے سوالات سر اٹھانے لگے۔ہالڈین(Haldane) کے مجوزہ حل کے نتیجہ میں یہ علم تو ہو گیا کہ زمین کا ماحول آزاد آکسیجن سے پاک تھا مگر کا سمک شعاعوں کی مسلسل بوچھاڑ سے حفاظت کیونکر ممکن ہوئی؟ آکسیجن کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ سوال اور زیادہ اہمیت اختیار کر گیا کیونکہ کاسمک شعاعوں سے حفاظت صرف اس وقت ممکن ہے جبکہ ماحول میں آکسیجن آزاد حالت میں موجود ہو۔یہ ایک ایسا معمہ تھا جس کا کوئی حل نظر نہیں آتا تھا۔آکسیجن کا ہونا بھی مہلک تھا اور نہ ہونا بھی مہلک تھا۔اگر آپ یہ فیصلہ کرتے کہ زندگی کی حفاظت کے لئے فضا آکسیجن سے بالکل خالی ہو تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مہلک کاسمک شعاعیں زندگی کا خاتمہ کر دیں گی۔جیسا کہ ابھی بیان کیا جائے گا ماحول میں آزاد آکسیجن کی موجودگی کی وجہ سے بالواسطہ یہ مہلک کا سمک شعاعیں زمین تک نہیں پہنچ پاتیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ باقی تمام گیسوں کی طرح آکسیجن کا مالیکیول بھی دوائیٹوں پر ہی مشتمل ہوتا ہے جو اپنے ایلوٹراپ (Allotrope) اوزون سے ایک ایٹم کم ہوتا ہے۔عموماً خیال اس طرف جا سکتا ہے کہ بھاری ہونے کی وجہ سے اوز ون سطح زمین کے زیادہ قریب ہو گئی اور اپنی موجودگی کے باوصف آکسیجن کو ہلکی ہونے کی وجہ سے کرہ ہوائی کے بالائی حصہ کی طرف چلا جانا چاہئے تھا۔ایک معمہ تو یہ ہے لیکن اس سے بھی حیران کن معمہ یہ ہے کہ اگر آکسیجن آزاد حالت میں موجود ہی نہیں تھی تو وہ اپنے بغل بچے اوزون کو پیدا کیسے کرسکتی تھی ؟ اور