الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 331
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 325 کر دے لیکن سیکولر سائنسدانوں کا نظریہ بھی کچھ کم قابل مذمت نہیں۔یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ تخلیق کی سکیم کی لاتعداد پیچیدگیوں کے باوجود ارتقا کا منصوبہ نہایت عمدہ طریق سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔کچھ بھی ہو یہ لوگ اس حیران کن شاہ کار کو محض ایسا اتفاقی حادثہ قرار دیتے ہیں جو نہ صرف عقل سے عاری ہے بلکہ اندھا، بہرا اور گونگا بھی ہے۔اس صورت میں مذہبی جوشیلوں کا تمسخر اڑانا انہیں زیب نہیں دیتا۔ان کا ایسے خدا کے بارہ میں تصور جو تخلیق کے عظیم الشان منصوبہ کی تکمیل کے بعد خواہ کسی بھی قسم کے ضعف کا شکار ہو چکا ہو، ان ماہرینِ ارتقا کے تخلیقی قوت کے نظریہ سے بدرجہا بہتر ہے۔ان کے نزدیک تخلیق کا یہ نہایت عمدہ اور حیرت انگیز پیچیدہ منصوبہ محض ایک ایسے وجود کے ذہن کی پیداوار اور عمل کا نتیجہ ہے جو بینائی اور عقل سے عاری ہے۔بائیبل کی کتاب پیدائش سے خدا کا جو تصور ابھرتا ہے اس کو اگر ظاہر پرمحمول کیا جائے تو خدا نعوذ باللہ ایک پیر فرتوت معلوم ہوتا ہے۔لیکن سائنسدان اس سے بھی زیادہ بیہودہ بات ہم سے منوانا چاہتے ہیں۔نیچری اس بات پر مصر ہیں کہ اربوں سالہ حیاتیاتی ارتقا کے پیچھے عقل سے عاری محض اتفاقات کا ایک سلسلہ ہے جس نے ارتقا کے عمل کو نہایت پیچیدہ اور دشوار گزار مراحل سے گزار کر موجودہ صورت تک پہنچادیا ہے۔جب وہ اس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں ہالڈین (Haldane) کی تحقیقات نے ثابت کیا کہ جو ماحول ابتداء میں موجود تھا اس کے مطابق زندگی کا آغاز بغیر آکسیجن کے ہونا چاہئے تو بدقسمتی سے ان کا نظریہ غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ہالڈین (Haldane) کے اس نظریہ سے اتفاق کرتے ہوئے سائنسدان یقین رکھتے ہیں کہ آکسیجن کی غیر موجودگی کے باوجود غیر حیاتیاتی دور، حیاتیاتی دور میں تبدیل ہو گیا تھا۔اس کے برعکس ہمیں یقین ہے کہ اگر چہ فضا میں آکسیجن آزاد حالت میں موجود نہ بھی ہو پھر بھی یہ کسی نہ کسی طرح اتنی مقدار میں ضرور موجود ہو گی جو حیات کے لئے ضروری ہو۔اس عمل کے بارہ میں ہمارے پاس کوئی متبادل حل نہیں لیکن ہمارے عدم علم سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایسا ہوا ہی نہیں ہوگا۔کسی خاص دور میں کئی لائنیل اور ناقابل فہم مسائل ایسے تھے جنہیں بعد کی تحقیقات نے قابل فہم بنا دیا۔ایک معین مثال تو ڈائنا سار (Dinosaurs) کی ہے کہ وہ کس طرح روئے زمین