الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 330

324 ارتقا میں چکنی مٹی اور ضیائی تالیف کا کردار کا عمل باقی رہ گیا ہو گا۔اور یوں آدم اپنے تمام تر نامیاتی اجزا سمیت مٹی سے جی اٹھا اور اسی لمحہ اس کے جسم کو تمام ضروری اجزا مثلاً DNA ،RNA، کروموسومز (Chromosomes)، جینز (Genes) اور جسمانی اور تولیدی خلیوں وغیرہ سے آراستہ کر دیا گیا۔کان، ناک اور آنکھیں وجود میں آئیں ، خون کی نالیوں کو پیدا کیا گیا۔نیز دل اور پھیپھڑوں کو تمام باریک در بار یک اجزاء کے ساتھ مکمل کر کے موزوں ترین جگہ پر رکھ دیا گیا اور ساتھ ہی لمحہ بھر میں مرکزی اعصابی اور دفاعی نظام بھی مکمل ہو گیا۔الہامی کتب کے بعض سادہ لوح قارئین کے نزدیک خالق کی ایک ہی پھونک سے یہ تمام خوبیاں چکنی مٹی کے آدم کے بت میں یکدم داخل ہو گئیں۔یہ نظریہ بھی اندھے ارتقا کی طرح عقل سے یکسر عاری ہے۔جن سائنسدانوں کے نزدیک تخلیق میں خدایا کسی اور باشعور اور بالا ہستی کا ہاتھ نہیں وہ عہد نامہ قدیم کے بیان کو ظاہر پر محمول کرنے والوں کا ٹھٹھہ اڑاتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا اپنا موقف بھی تو ویسا ہی مضحکہ خیز ہے۔اگر عہد نامہ قدیم کے بیان کے لفظی معنی کئے جائیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خدا تعالی خالق اور قادر مطلق تو ہے لیکن حکیم نہیں۔کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک حکیم خدا تخلیق کا ایسا احمقانہ منصوبہ سوچے جس میں کوئی ماہر کوزہ گر اسے اپنے ہی میدان میں شکست دے دے۔انسان کی تخلیق سے قبل ارتقا کا منصوبہ عجائبات قدرت کا حسین اور لاثانی شاہکار ہے۔یہ بات تصور سے باہر ہے کہ ایسی تخلیق کے خالق کو خود اپنے بنائے گئے قوانین قدرت بھول گئے ہوں اور زندگی کے جن بنیادی اجزاء کو اس نے خود انتہائی ذہانت سے ڈیزائن کیا ہو اور باریک در بار یک عجائبات سے ان چھوٹے چھوٹے خلیوں کو مزین کیا ہو، انہیں نظر انداز کر دے اور ارتقائے حیات کی اربوں سالہ تاریخ کو بھول جائے۔اور جب وہ ایک اور آدم کو چکنی مٹی سے پورے انہماک سے بنا رہا تھا تو کیا اسے یہ بھی یاد نہ رہا کہ وہ لاکھوں سال پہلے نہایت احسن طریق پر اسے پہلے ہی تخلیق کر چکا ہے۔کرہ ارض تو پہلے ہی نسل انسانی سے بھرا ہوا تھا۔یہ لوگ باغ عدن میں تخلیق آدم کی اس بے معنی تکرار کو دیکھ دیکھ کر حیران ہورہے ہوں گے۔ان مذہبی جنونیوں کے تخلیق انسانی کے بارہ میں اس بچگانہ خیال کو خواہ کوئی حقارت۔رو