الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 319 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 319

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 313 سائنسدانوں کی تحقیق میں کوئی خاص ذکر نہیں ملتا۔لیکن وہ اس نظریہ سے بہر حال متفق ہیں کہ جو مادے بھی حیات کے ارتقا سے پہلے موجود تھے وہ حرارت سے توانائی حاصل کرتے تھے۔سائنسدانوں کی سابقہ نسل نے بیکٹیریا کی انتہائی قدیم اقسام میں سے صرف پروکر ائیوٹس ( Prokaryotes) اور یوکرائیوٹس (Eukaryotes) کا ذکر کیا ہے تاہم کارل۔آر۔ووز۔KarlR) (Woese اور اس کے رفقا کے نزدیک یہ نتیجہ جلد بازی میں اخذ کیا گیا ہے۔وہ کہتے ہیں: خورد بینی سطح پر دو قسم کے خلیات پائے جانے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ضرور سالماتی (molecular) سطح پر بھی ان کی دوہی اقسام پائی جاتی ہوں گی۔3 عام قاری کی آسانی کیلئے ان دو بیکٹیریا یعنی پرو کر ائیوٹس اور یوکرائیوٹس کے مابین فرق کو عام فہم زبان میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ ان میں مرکزہ یا تو موجود ہوتا ہے یا نہیں۔پرو کیرا ئیوٹس قسم کے بیکٹیریا میں خلیاتی جھلی تو ہوتی ہے لیکن مرکزہ مفقود ہوتا ہے جبکہ یوکرائیوٹس کے ہر خلیہ میں ایک مرکزہ موجود ہوتا ہے۔قبل ازیں یہ سمجھا جاتا تھا کہ ابتدا میں بیکٹیریا کی یہی دو اقسام تھیں جن سے حیات کی ایسی اقسام نے جنم لیا جنہیں زندگی کا ماخذ کہا جا سکتا ہے۔اگر چہ ووز (Woese) جون 1981ء کے سائنٹیفک امریکن (Scientific American) میں اپنی اس اہم تحقیق کے نتائج کو بیان کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آرک بیکٹیریا (Archaebacteria) یا قدیمی بیکٹیریا کو حقیقی طور پر زندہ مادہ کی ابتدائی شکل سمجھا جاسکتا ہے۔اس نے اور اس کے رفقائے کار نے سائنسی دنیا کو مطلع کیا کہ آرک بیکٹیریا، بیکٹیریا کی تیسری واضح قسم ہے جو بعد کی تمام اقسام کے وجود میں آنے کا باعث بنی۔چنانچہ ان آرک بیکٹیریا کو ہی زندگی کا قدیم ترین ماخذ سمجھنا چاہئے۔روز (Woese) اور اس کے رفقائے کار نے اس دریافت کے بارہ میں بہت سے ا مزید شواہد پیش کئے ہیں جن کے نتیجہ میں جمود ٹوٹنے لگا۔اس کے مطابق: گو چند ایک ماہرین حیاتیات ابھی تک ہمارے اس موقف سے اختلاف رکھتے ہیں تا ہم یہ نظریہ کہ آرک بیکٹیریا انتہائی اعلی سطح پر ایک علیحدہ گروپ کی نمائندگی کرتا اب تسلیم کیا جا رہا ہے۔4<< ہے