الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 311
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 305 کیمیاوی مادے جنہیں انجام کار زندگی کو جنم دینا تھا آکسیجن کے بغیر ہی ارتقا کے عمل میں سے گزر رہے تھے۔1< جے بی ایس ہالڈین (J۔B۔S۔Haldane)، جو کہ ایک انگریز سائنس دان تھے اور بائیو کیمسٹری کے ماہر تھے ، غالباً انہوں نے پہلے پہل اس امر کو تسلیم کیا کہ بے جان نامیاتی مادے میں سے زندگی کے ارتقا کیلئے ضروری تھا کہ ایک Reducing Atmosphere سینی ایسا تخفیفی کرہ ہوائی ہو جس میں آزاد آکسیجن کا یکسر فقدان ہو۔1 اوزون (Ozone) کی تہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے بہت طاقتور تابکار شعائیں بلا روک ٹوک زمین اور سطح سمندر پر اثر انداز ہوتی ہوں گی اور اس تابکار بمباری کے نتیجہ میں ایسا جاندار مادہ پیدا ہوا جس میں بے جان نامیاتی مادہ کو جاندار نامیاتی مادہ میں تبدیل کرنے کی خاصیت موجود تھی۔سمندروں میں موجود غیر نامیاتی مادہ کی ابتدائی نامیاتی مادہ مثلاً امینوایسڈ وغیرہ میں تبدیلی ان شعاعوں اور فضا میں آکسیجن کی غیر موجودگی کا نتیجہ تھی۔یہ کیمیائی عمل سادہ غیر نامیاتی مالیکیولز (molecules) مثلاً پانی، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور امونیا کے ملنے سے پیدا ہوا۔ہالڈین کے مطابق جوں جوں یہ سلسلہ بڑھتا گیا قدیم سمندروں کا پانی اس گرم پتلے کثافتی شور بہ کی شکل اختیار کر گیا جسے Primordial Soup یعنی قدیمی شور بہ کہا جاتا ہے۔2 بالڈین کی تحقیق کے نتائج 1929ء میں Rationalist Annual میں شائع ہوئے لیکن انہیں سائنسی حلقوں میں کوئی خاص پذیرائی حاصل نہ ہوسکی۔ایک روسی سائنسدان اے۔آئی۔اوپرن ( AL۔Oparin) بھی چند سال قبل 1924ء میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کر چکا تھا۔اس مضمون کا بھی وہی حشر ہوا جو ہالڈین کے مضمون کا ہوا تھا، حالانکہ دونوں الگ الگ کام کر کے اسی نتیجہ پر پہنچے تھے کہ حیاتیاتی ارتقا کے آغاز میں غیر نامیاتی مادہ کس طرح نامیاتی مادہ میں تبدیل ہوا تھا۔ہالدین اور اوپران کے بعد دیگر سائنسدانوں نے بھی تحقیق کے اس ایک نیا سنگ میل میدان میں شہرت پائی۔اس میدان میں نظریاتی سطح پر امریکین | یونیورسٹی شکاگو سے تعلق رکھنے والے سائنسدان ہیرلڈ۔سی یوری (Herald۔C۔Urey) کا نام سر فہرست ہے۔وہ اپنی کتاب 3 The Planets میں ہالڈین اور اوپرن کے کام کا ذکر کرتا ہے۔