الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 300
294 حيات : وحئ قرآن کی روشنی میں دوسرا اصول اللہ تعالیٰ کی صفت "رب" سے متعلق ہے جس کا استعمال قرآن کریم میں عموما تخلیقی عمل کے سلسلہ میں ہوا ہے اور اس سیاق و سباق میں اس کا اشارہ ایسی ہستی کی طرف ہے جو کسی چیز کو اس کی ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت تک پہنچائے۔مثلاً جب گھوڑے کے کمزور اور ناتواں بچہ کی دیکھ بھال کر کے اسے خوبصورت اور مضبوط گھوڑا بنا دیا جائے تو اس کے لئے عرب رَبِّ الْغُلُو کا محاورہ استعمال کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے گھوڑے کی نہایت عمدگی سے دیکھ بھال اور پرورش کی۔اسی طرح الرب کا ایک اور معنی پیش بینی کرنے والا ہے۔اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ خدا جو خالق ہے اپنی تخلیق کے درجہ بدرجہ ارتقا کی مناسبت سے ان کی ضروریات بھی پوری فرماتا ہے۔اس سے یہ حقیقت قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ قرآن کریم مرحلہ وار تخلیق کا ذکر فرماتا ہے اور کسی چیز کے یکدم عالم وجود میں آنے کے تصور کو نکلیڈ رد کرتا ہے۔اس خیال کی تردید اس لئے بھی ضروری ہے کہ ایسا خیال اللہ تعالیٰ کی عظمت کے منافی ہے۔چنانچہ قرآن کریم اس بارہ میں انسان کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ( نوح 14:71-15) ترجمہ تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ سے کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ؟ حالانکہ اس نے تمہیں مختلف طریقوں پر پیدا کیا۔سورۃ الانشقاق کی مندرجہ ذیل آیت بنی نوع انسان پر یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ ان کا سفر مسلسل جاری ہے : لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ (الانشقاق 20:84) ترجمہ: یقینا تم ضرور درجہ بدرجہ ترقی کرو گے۔یہ تخلیق کا مکمل اور ہمہ گیر منصوبہ ہے۔ارتقا کے مختلف مراحل میں زندگی پر اثر انداز ہونے والے عوامل مختلف رہے مگر ان کا منتہی ہمیشہ انسان کی تخلیق ہی رہا۔یہ اہم موضوع سائنسدانوں اور علماء دین کے مابین نزاع کا موجب بنتا رہا ہے۔یہ لوگ اپنی اپنی جگہ تخلیق کے گورکھ دھندے کو سلجھانے کیلئے کوشاں تھے۔چنانچہ مختلف نظریات تجویز کئے