الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 299
حیات وحی قرآن کی روشنی میں اجمالی تعارف قرآن کریم نے تخلیقی عمل کے بہت سے پہلوؤں کو بڑی وسعت سے بیان کیا ہے جن میں ارتقا کے جملہ عوامل بھی شامل ہیں اور وہ حالات بھی جو اس کا باعث بنے۔قرآن کریم کے بعض بیانات اس قدر منفرد اور اچھوتے ہیں کہ وہ تخلیق سے متعلق تحقیق میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہاں ہم قارئین کو انہی اصولوں سے متعارف کروا رہے ہیں۔یادر ہے کہ تعارف کے طور پر جو کچھ یہاں بیان کیا جا رہا ہے اس کی مزید وضاحت آگے چل کر متعلقہ ابواب میں کی جائے گی۔مندرجہ ذیل آیات میں اہم رہنما اصول بیان کئے گئے ہیں جو قابل توجہ ہیں: تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ نَ الَّذِى خَلَقَ المَوت والحيوة ليبلوكم أيكم أحْسَنُ عَمَلاً وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُةُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى في خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفُوتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فَطَوْرِ ( الملك 2:67-4 ترجمہ: بس ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس کے قبضہ قدرت میں تمام بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔وہی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔اور وہ کامل غلبہ والا ( اور ) بہت بخشنے والا ہے۔وہی جس نے سات آسمانوں کو طبقہ در طبقہ پیدا کیا۔تو رحمان کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔پس نظر دوڑا۔کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے؟ یہ وہ خاص آیات ہیں جو تمام کائنات کی تخلیق کے منصوبہ پر روشنی ڈالتی ہیں۔یہاں مندرجہ ذیل دو بنیادی اصولوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی کائنات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔دوم یہ کہ زندگی کا ظہور اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کا ارتقا درجہ بدرجہ ہوا ہے۔یہ 293