الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 282 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 282

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 275 ایسا ضرور ہو رہا ہے جس کو از سرنو واپس نہیں لایا جا سکتا۔ضائع ہو جانے والا یہ مادہ دوبارہ کبھی بھی کائنات کا حصہ نہیں بن سکے گا۔اس کتاب کے مقصد کے لئے معطر اپی کی اتنی ہی وضاحت کافی ہوگی۔اب ہم قاری کی توجہ اس عمل کے ناگزیر نتیجہ کی طرف مبذول کراتے ہیں۔مطرانی کی پوری تفہیم سے قبل اکثر سائنسدانوں کا خیال تھا کہ کائنات کیلئے کسی خالق کا ہونا ضروری نہیں ہے کیونکہ کائنات ازل سے ہے۔مگر عنطر اپی کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد بعض سائنسدانوں کے نظریات یکسر تبدیل ہو گئے ہیں اور بعض اس موضوع پر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔اس کائنات کے ازلی ابدی ہونے کا جائزہ ماضی اور مستقبل دونوں کے حوالہ سے لیا جا سکتا ہے۔مادہ کو ابدی تسلیم کرنے والے سائنسدانوں کے نزدیک مادہ ماضی اور مستقبل ہر دو حوالوں سے ازلی ابدی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ماضی کے کسی بھی لمحہ کو کائنات کا نقطہ آغاز قرار نہیں دیا جا سکتا۔کیونکہ ازل اور ابد کی نہ تو ابتدا ه ہوا کرتی ہے اور نہ ہی انتہا۔پس عطر آپی کے اصول کی دریافت سے مادہ کے ازلی ابدی ہونے کا نظریہ درست ثابت نہیں ہوتا۔کائنات کو کسی بھی شکل میں ابدی کیوں نہ سمجھا جائے تو بھی حقیقت یہ ہے کہ عطر اپی کی وجہ سے کائنات میں موجود مادہ متواتر ضائع ہو رہا ہے۔پس اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ایک لمبا زمانہ گزرنے کے بعد کائنات کا وجود ختم ہو جائے گا وقت کے کسی ایک مقام سے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو زمانہ ہمیشہ از لی اور لامحدود دکھائی دیتا ہے۔بالفاظ دیگر وقت کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں ہے جہاں سے ہم ماضی کا تعین کر کے یہ کہہ سکیں کہ اس سے پہلے کچھ نہیں تھا۔کوئی بھی اگر چاہے تو اپنے تصور میں ماضی میں سفر کر سکتا ہے۔فرض کریں کہ وہ روشنی کی رفتار سے کھرب ہا کھرب سال بھی ماضی میں سفر کرتا رہے تب بھی وہ زمانہ اور وقت کے نقطہ آغاز تک نہیں پہنچ سکتا۔اور اگر وہ کسی مقام کو نقطۂ آغاز سمجھ بھی لیتا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے بلکہ اس صورت میں وہ دراصل ازل کی بجائے کسی اور چیز کی تلاش میں تھا۔ایک بار پھر فرض کریں کہ وہی مسافر کسی کائنات کی تلاش میں ماضی کی طرف سفر کرتا ہے اور اگر اسے کوئی کائنات ملتی بھی ہے تو از لیست اس کائنات کو اس کے ہاتھ سے چھین کر دوبارہ ایک