الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 278 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 278

الهام ، عقل ، علم اور سچائی ہوتا ہے۔لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلَ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ يس 36 : 41) ترجمہ: سورج کی دسترس میں نہیں کہ چاند کو پکڑ سکے اور نہ ہی رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے اور سب کے سب اپنے اپنے ) مدار پر رواں دواں ہیں۔271 قرآن کریم کا یہ منفرد اسلوب زمین کی اپنے محور کے گرد گردش کے بارہ میں بھی استعمال اُس زمانہ کے عامتہ الناس ان آیات میں مضمر پیغام کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتے تھے اور یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے تھے کہ پہاڑوں کی حرکت زمین کی حرکت سے وابستہ ہے نیز یہ کہ اگر سورج خلا میں ایک مخصوص مقام کی طرف سفر کر رہا ہے تو تمام کائنات بھی اسی طرح حرکت پذیر ہے۔یہ نظر یہ کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے اس دور کے سائنسدانوں کے تصور میں بھی نہیں آیا تھا لیکن قرآن کریم کے گہرے مطالعہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ساری کائنات خلا میں ایک خاص سمت میں سفر کر رہی ہے۔اگر یہ تجزیہ درست ہے تو تمام کی تمام 180 ارب یا اس سے بھی زیادہ کہکشائیں جن میں ہمارے نظام شمسی کی حیثیت ایک چھوٹے سے نقطہ کی ہے سورج کی طرح ایک معین سمت میں سفر کر رہی ہیں۔اس باب میں ہم ایک ایسے عظیم بلیک ہول کا ذکر کر چکے ہیں جو ایک دن تمام کائنات کو سمیٹ کر ایک جگہ جمع کر لے گا۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم کے مطابق یہ کائنات پھیلتی اور سکرتی رہتی ہے بگ بینگ کے آغاز پر یہ کائنات تقریباً روشنی کی رفتار سے پھیل رہی تھی جو بالآخر دوبارہ ایک بلیک ہول میں واپس کھینچ لی جائے گی۔بگ بینگ کا نظریہ ایک واحد آفاقی بلیک ہول کے تصور کی تائید کرتا ہے جو قرآنی آیات کے عین مطابق ہے۔بعض سائنسدان ایک مسلسل وسعت پذیر کائنات کا تصور پیش کرتے ہیں۔ان کے خیال میں کائنات پھیلتی چلی جائے گی یہاں تک کہ مادہ منتشر ہوتے ہوتے اتنا لطیف ہو