الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 273
266 قرآن کریم اور کائنات ساتھ گھوم رہی ہے۔لیکن قرآن کریم کی فصاحت کا یہ کمال ہے کہ اس وقت کے لوگوں کے تصور میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی۔باقی دنیا کی طرح وہ بھی یہی خیال کرتے رہے کہ زمین ساکن ہے اور اسی وجہ سے اس غلط نظریہ کو چیلنج نہیں کیا گیا۔اگر اس آیت کے آخری حصہ کو غور سے پڑھا جاتا تو کسی غلط فہمی کی گنجائش نہ رہتی کیونکہ اس میں خدا کی صفت خالقیت کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے کہ خالق کا ئنات نے سب چیزوں کو اس خوبی سے پیدا کیا ہے کہ انہیں اپنے مقام سے ہٹایا نہیں جاسکتا اور جو چیز اپنے مقام سے ہٹائی نہ جاسکے وہ زمین کو چھوڑ کر اس کے مدار سے باہر نہیں جاسکتی۔علاوہ ازیں قرآن کریم کی بہت سی آیات میں پہاڑوں کے متعلق رواسی“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے ”زمین میں گاڑے ہوئے۔“ خَلَقَ السَّمَوتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِي آن تَمِيدَ بِكُمْ وَبَتَ فِيهَا مِن كُل دَابَةِ وَالزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَالبَتْنَا فِيهَا مِن كُل زوج گریم۔(لقمن 11:31) ترجمہ: اس نے آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے بنایا جنہیں تم دیکھ سکو اور زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ تمہیں خوراک مہیا کریں اور اس میں ہر قسم کے چلنے والے جاندار پیدا کئے اور آسمان سے ہم نے پانی اتارا اور اس (زمین) میں ہر قسم کے عمدہ جوڑے اگائے۔وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسَى اَنْ تَمِيدَبِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ (الانبياء 32:21) ترجمہ: اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تا کہ وہ ان کے لئے غذا فراہم کریں اور ہم نے اس میں کھلے رستے بنائے تا کہ وہ ہدایت پاویں۔وَالْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَرا وَسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ( النحل 16:16)