الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 269 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 269

262 وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْ حَيْ أَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ ) قرآن کریم اور کائنات (الانبياء 21 : 31) ترجمہ: کیا انہوں نے دیکھا نہیں جنہوں نے کفر کیا کہ آسمان اور زمین دونوں مضبوطی سے بند تھے۔پھر ہم نے ان کو پھاڑ کر الگ کر دیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔تو کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے؟ یہاں معنی خیز بات یہ ہے کہ اس آیت میں بالخصوص غیر مسلموں کو مخاطب کیا گیا ہے۔شاید اس میں حکمت یہ ہے کہ مذکورہ بالا راز سے پردہ غیر مسلموں نے اٹھانا تھا۔مقصد یہ تھا کہ اس طرح یہ امر قرآن کریم کی صداقت کا ایک زندہ نشان بن کر ان کے سامنے آجائے۔اس آیت کے دو الفاظ یعنی ”رتقا (بند کیا گیا ہیولہ ) اور ”فتقنا (ہم نے اسے پھاڑ کر کا کچھ الگ کر دیا) میں بنیادی پیغام پوشیدہ ہے۔مستند عربی لغات میں ”رتقا کے دو مطالب بیان کئے گئے ہیں اور دونوں ہی اس موضوع سے متعلق ہیں۔ایک معنی یکجان ہو جانے کے ہیں اور دوسرے معنی کامل تاریکی کے ہیں۔یہاں یہ دونوں ہی مراد ہو سکتے ہیں اور دونوں کو ملا کر بعینہ ایک بلیک ہول کا نقشہ ابھرتا ہے۔بلیک ہول اس وسیع وعریض مادہ کی منفی شکل ہے جو اپنی ہی کشش ثقل کے دباؤ کے زیر اثر سکٹر کر اپنا مادی وجود کھو بیٹھتا ہے۔سورج سے تقریبا پندرہ گنا بڑے ستارے جب اپنا دور حیات ختم کر چکتے ہیں تو ان سے بلیک ہول کے بننے کا آغاز ہوتا ہے۔ان ستاروں کی کشش ثقل ان کے وجود کو سکیٹر کر چھوٹی سی جگہ پر سمیٹ لیتی ہے۔اس کشش ثقل کی شدت کی وجہ سے مادہ مزید سکٹر کر سپرنووا (Supernova) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اس مرحلہ پر مادہ کے بنیادی ذرات مثلاً مالیکیول، ایٹم وغیرہ پیس کر ایک عجیب قسم کی توانائی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔زمان و مکان کے اس لمحہ کو ایونٹ ہورائزن (Event Horizon) یا واقعاتی افق کا نام دیا گیا ہے۔اس کی اندرونی کشش ثقل اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ ہر چیز کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔حتی کہ روشنی بھی اس سے باہر نہیں جاسکتی اور واپس جذب ہو جاتی ہے جس کے نتیجہ میں مکمل تاریکی پیدا ہو جاتی ہے۔اسی وجہ سے اسے بلیک ہول کہا جاتا ہے۔ان حقائق سے ذہن خود بخو دقرآن کریم میں مذکور لفظ ”رتقا کی