الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 263

256 البينة ، القيمة ہوتا ہے اور کبھی بغیر الفاظ کے۔البینة کا یہ خاموش اظہار نصف النہار کے سورج کی طرح ہوتا ہے جس میں تمام دائی الہی تعلیمات چمک رہی ہوتی ہیں۔چنانچہ ایک طرف تو یہ اللہ تعالیٰ سے قوت حاصل کرتی ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کو جو اس پر انحصار کرتے ہیں تقویت بہم پہنچاتی ہے۔القيمة کی اصطلاح کا اطلاق ایسی تمام بنیادی تعلیمات پر ہوتا ہے جو ستمی اور پائیدار ہونے کی صفت سے متصف ہوں۔اس مقام پر یہ دونوں اصطلاحیں ایک ہی دکھائی دینے لگتی ہیں۔اقدار کی آفاقیت اور مطلقیت ایسی فلسفیانہ اصطلاحیں ہیں جن کو مذہبی اصطلاح میں القيمة کہا جاتا ہے۔لیکن کیا نظریات یا اقدار حقیقت میں مطلق یا آفاقی کہلا سکتی ہیں؟ اس سوال کا ہمیں سیکولر نقطۂ نظر سے جائزہ لینا ہوگا۔سائینٹفک سوشلزم کے تقریباً تمام بڑے بڑے مفکرین نے خیال اور اقدار کے مطلق ہونے کو کلیپة رد کیا ہے۔کیونکہ ان کے نزدیک مطلقیت مارکس کے نظریہ جدلی مادیت کے ساتھ لگا نہیں کھاتی۔لیکن جب ان کا سامنا مادی دنیا کے روز مرہ کے حقائق سے ہوتا ہے تو ان کے پاس مطلقیت کو کلیدی رد کرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن آتا ہے۔آگ جلاتی اور پانی آگ بجھاتا ہے۔گرمی سردی اور دکھ سکھ کا احساس، بھوک اور سیری، پیاس اور سیرابی کا تصور اور اسی قسم کے دیگر احساسات اس امر کے محتاج نہیں کہ کوئی سائنسدان ان کی سچائی ثابت کرتا پھرے۔پس وہ بغیر کسی تغیر اور شک وشبہ کے موجود ہیں اور اس امر کیلئے کسی کی وکالت کی ضرورت نہیں۔بالکل اسی طرح سے ان کی قطعیت بھی انسانی تفہیم کا جزولاینفک ہے۔رات اور دن کا تصور بصارت سے تعلق رکھتا ہے لیکن ان کے بارہ میں کیا کہیں گے جو اس صلاحیت سے یکسر محروم ہیں؟ اشیاء کے بارہ میں ایسے لوگوں کا تصور مقابلہ ان سے مختلف ہوگا جنہیں دیکھنے کی بہتر صلاحیت عطا ہوئی ہو۔اس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جسے ہم مطلق تصور سمجھ رہے ہیں، کہیں وہ اپنی ذات میں نسبتی تو نہیں۔شک اور یقین کے درمیان کئی مدارج ہیں۔اس دائرہ میں کسی بھی طرف سفر کیا جاسکتا ہے جس کی سمت کا انحصار مشاہدہ کرنے والے کی قوت بصارت اور روشنی کی موجودگی پر ہے۔لیکن اس قسم کے شبہات مخصوص اور غیر معمولی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔انسانی تجربات کے وسیع تناظر میں ان کی حیثیت اتنی معمولی اور نا قابل ذکر ہوا کرتی ہے کہ وہ انسان کے عالمگیر اور مسلمہ تجربہ کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔