الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 262
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 255 ہے اور نہ ہی بعد کے ادوار میں بتدریج ارتقا پانے والے پختہ خیالات سے اسے کوئی مماثلت ہے۔آغاز کار ہی سے الہام الہی کے طفیل اسے آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی ایک چمک عطا کی جاتی ہے۔سنة کی اصطلاح اپنے اندر کچھ اور مفاہیم بھی رکھتی ہے۔یہ ایک ایسا محرک ہے جو ایمان اور روحانی ارتقا کو مسلسل آگے بڑھاتا رہتا ہے۔اس میں جمود بھی نہیں ہوتا بلکہ زیادہ تر یہ ارتقا البينة۔کے غالب اصولوں سے ملتا جلتا ہے۔تمام پیغمبرانہ تحریکیں البيّنة ہی سے نکلتی ہیں۔اس لفظ کے مصدر کے بنیادی معنی ہیں فرق کرنا اور امتیاز کرنا۔البينة معنوی اعتبار سے ایک اور قرآنی اصطلاح البیان کے ساتھ بھی مشترک ہے۔" البیان ایسی گفتگو کو کہتے ہیں جو دو مفاہیم میں فرق کرنے اور انسانی خیالات کے معین اظہار کی صلاحیت رکھتی ہو۔یا د رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کے مطابق البینة کی طرح البیان کا ماخذ بھی الہام ہے جیسا کہ مندرجہ ذیل آیات میں مذکور ہے: خَلَقَ الْإِنْسَانَ أَ عَلَمَهُ الْبَيَانَ ) الرحمن 4:55-5) ترجمہ: (اس نے) انسان کو پیدا کیا۔اسے بیان سکھایا۔کلام کرنے کی صلاحیت انسان کو خدا تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔جس سے لامحالہ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کو جو زبان سب سے پہلے سکھائی گئی تھی وہ خدا تعالیٰ نے خود سکھائی تھی۔اس لئے اس وضاحت کی روشنی میں انسان کی قوت گویائی کا معمہ بآسانی حل ہو جاتا ہے۔قوت گویائی انسان کو عالم حیوانات سے اتنا ممتاز کر دیتی ہے کہ محض نظریہ ارتقا سے اس کی تشریح نہیں ہو سکتی خواہ اس کی کتنی بھی کھینچا تانی کیوں نہ کی جائے۔اس طرح سے البیان، یعنی کلام کرنے کی صلاحیت خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام ٹھہرتی ہے۔پس ”البیان اور البینة کا ماخذ ایک ہی ہے اور دونوں قریباً ہم معنی اصطلاحات ہیں تا ہم اس مماثلت کے باوجود دونوں میں ایک خاص فرق بھی ہے۔البیان کا تعلق لفظی اظہار سے ہے۔جبکہ البينة كو صرف لفظی اظہار تک ہی محدود نہیں کیا جا سکتا۔بعض اوقات اس کا اظہار الفاظ میں