الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 243
238 ایمان بالغيب لامسہ سے براہ راست محسوس نہیں کر سکتا۔البتہ انہیں ریڈیو اور ٹیلیویژن کے ذریعہ سن اور دیکھ سکتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں جبکہ لہروں کو قابل سماعت اور قابل بصارت بنا دیا جائے۔ان لہروں کو بالآخر آوازوں اور جیتی جاگتی تصویروں میں ڈھالنے کی طاقت بھی ذہن ہی کو حاصل ہے۔ذہن میں ابھرنے والے نقوش فقط ٹیلیویژن کی سکرین تک ہی محدود نہیں ہوتے بلکہ اس سے کہیں وسیع تر ہوا کرتے ہیں۔ایک ظاہری نظارہ کو بامعنی بنانے کیلئے انسانی ذہن اپنی طرف سے اس میں کئی ان دیکھے مطالب شامل کر لیتا ہے۔مذکورہ بالا ذرائع کے علاوہ وحی بھی غیب کے پوشیدہ حقائق تک رسائی کا ایک ذریعہ ہے۔اس طرح انسانی ذہن جو تمام تاثرات کی آخری قیام گاہ ہے نظام محسوسات اور وحی دونوں ہی کے ذریعہ اثرات قبول کرتا ہے۔یہ دونوں علیحدہ علیحدہ یا مل جل کر کام کرتے ہیں۔مثلاً حواس کے ذریعہ محسوس ہونے والی اشیاء کا عرفان وحی کی مدد سے بہتر طور پر ہوسکتا ہے کیونکہ وحی انسانی قومی کو جلا بخشتی ہے اور ذہن کو اس قابل بناتی ہے کہ اعضائے جس کے ذریعہ موصول ہونے والے پیغامات کی زیادہ صحیح اور واضح تاویل کر سکے۔اسی طرح دوسری طرف ملہم اپنے حواس اور یادداشت کی مدد سے وحی کے پیغام کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔گو وحی کے بغیر بھی انسان کیلئے اپنی حدود سے باہر جانا نا ممکن نہیں لیکن ذہن کی بھی اپنی حدود ہیں۔خدا کا علم زمان و مکان کی حدود سے بالا ہے لیکن انسان کا نہیں۔لہذا وہ تمام علوم جو انسانی استعدادوں کی رسائی سے باہر ہیں خدا کے اذن سے وحی کے ذریعہ حاصل کئے جاسکتے ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے: فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدَانُ إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ ( الجن 27:72-28) ترجمہ: پس وہ کسی کو اپنے غیب پر غلبہ عطا نہیں کرتا بجز اپنے برگزیدہ رسول کے۔واضح رہے کہ مؤخر الذکر آیت اس امکان کو رد نہیں کرتی کہ کوئی غیر نبی بھی رویائے صادقہ ، کشوف یا الہامات کے ذریعہ غیب کا علم حاصل کر سکے۔البتہ اس امکان کا ردوضرور کیا گیا ہے کہ پیغمبروں کے علاوہ کوئی اور شخص اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے کسی بھی شعبہ پر عبور حاصل کر لے۔یہاں جس اصول پر زور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء کے علاوہ جن لوگوں کو یہ علم عطا کیا جاتا ہے خواہ