الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 242
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 237 کائنات کی بہت سی مادی صورتوں کا براہ راست معائنہ ممکن نہیں۔ان کے وجود اور مادی خواص کا علم منطقی استدلال سے ممکن ہے یا پھر ایسے جدید ترین حساس برقی آلات کے ذریعہ سے جو انہیں بالواسطہ انسانی حواس کے دائرہ میں لا سکتے ہیں۔آخر نیوٹر مینوز (Neutrinos) اور اینٹی نیوٹر مینوز (Anti-Neutrinos) کیا ہیں؟ مادہ (matter) اور ضد مادہ (Antimatter) میں فرق کیا ہے؟ باسنز (Bosons) اور اینٹی باسنز (Anti-Bosons) کسے کہتے ہیں؟ ان سوالات کے جوابات کسی بھی قسم کے براہ راست مشاہدہ سے ممکن نہیں۔اس کے باوجود یہ ان دیکھی دنیا ایک مسلّمہ حقیقت ہے۔یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ زندگی کی اصل حقیقت زمین ہے جو دماغ کے کمپیوٹر کے ذریعہ حواس خمسہ سے موصول شدہ تمام پیغامات کی تشریح کرتا ہے۔ذہن سے مراد دماغ نہیں بلکہ یہ دماغ سے بالا اور وسیع تر حقیقت ہے جو عمل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ذہن شعور کا بنیادی مرکز ہے۔اس میں منطقی استخراج کی حیرت انگیز صلاحیت موجود ہے۔حقائق اور شواہد کی عدم موجودگی میں ذہن محض مفروضہ کی بنا پر بھی کام کر سکتا ہے۔اسی طرح ذہن دماغ میں محفوظ معلومات پر غور و فکر کے ذریعہ بھی اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے۔فیصلے ذہن کی سطح پر ہی ہوتے ہیں جبکہ دماغ محض معلومات محفوظ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔مزید برآں ذہن لا انتہا اور ابدیت جیسے غیر مادی تصورات پر غور کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔نیز علت و معلول کے بظاہر نا قابل حل معمہ کوحل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔کسی بھی چیز کا آغاز کیسے ہوا۔آغاز سے پہلے کیا تھا۔کیا تمام اسباب کا محرک کوئی پہلا سبب تھا ؟ اگر تھا تو کیا وہ زندہ اور ذی شعور تھا یا مردہ اور بے شعور؟ اس قسم کے سوالات کا منطقی جواب جو ذہن میں آسکتا ہے یہی ہے کہ وہ سبب ہرگز مردہ اور بے شعور نہیں ہوسکتا۔پھر یہ سوال کہ آیا موت زندگی کو تخلیق کرسکتی ہے اور بے شعوری سے شعور جنم لے سکتا ہے؟ یہ ایسے مضامین ہیں جن کا کھوج دماغ نہیں صرف ذہن لگا سکتا ہے۔لہذا بعض اوقات تو ذہن مفروضوں کے ذریعہ غیب کے وجود کو تسلیم کر لیتا ہے اور بعض اوقات دستیاب معلومات کی جانچ پڑتال کے ذریعہ منطقی نتائج اخذ کرتا ہے۔ذہن ہمارے ارد گرد موجود شعاعوں اور لہروں کا تصور تو کر سکتا ہے لیکن انسان ان شعاعوں کو حواس خمسہ یعنی بصارت یا سماعت یا ذائقه یا شامه یا