الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 220

الهام ، عقل ، علم اور سچائی کی مدد سے اس موضوع پر تحقیق جاری ہے۔مذہبی نقطہ نگاہ سے خواب کی دو اقسام ہیں: 1 ایسے خواب جو انسانی نفسیات کی پیداوار ہیں۔: 215۔2 ایسے خواب جو خدا کی طرف سے دکھائے جاتے ہیں اور اپنے اندر گہرے مطالب رکھتے ہیں۔ایسے خواب پیشگوئیوں یا خوشخبریوں پر مشتمل ہو سکتے ہیں اور ایسے واقعات پر بھی مشتمل ہو سکتے ہیں جن کا علم خواب دیکھنے سے پہلے ، خواب دیکھنے والے کو بھی قطعاً نہیں ہوتا۔ایسے خواب ایک ایسی غیر مرئی، ماورائی اور باشعور ہستی کے وجود پر دلالت کرتے ہیں جو چاہے تو اپنے کسی پسندیدہ موضوع پر انسانوں کے ساتھ ہمکلام بھی ہو سکے۔اس سلسلہ میں مذہبی تجربات کی بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں لیکن مذہب پر یقین نہ رکھنے والوں کیلئے ان مثالوں کا قبول کر لینا بہت مشکل ہے۔کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ کوئی بالا اور باشعور ہستی انسانی ذہن پر اثر انداز ہو سکتی ہے تو لازما اللہ تعالی کے وجود کو تسلیم کرنا پڑے گا جو ایک۔ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار بہت سے سیکولر مفکرین اور سائنسدانوں کیلئے مشکل ہے۔دوسری بڑی دقت یہ ہے کہ اکثر مذاہب میں اس نظریہ کو جس انوکھے انداز میں پیش کیا جاتا ہے اس کو ماننا سائنسدانوں کیلئے مشکل ہے۔کیونکہ گزشتہ زمانہ کے بزرگوں اور انبیاء کے روحانی تجربات کو ان کے ماننے والے جس ڈرامائی انداز میں پیش کرتے ہیں وہ نہ تو ان کے پیغام کیلئے مفید ہے اور نہ ہی اس سے ان کی سچائی کوکوئی فائدہ پہنچتا ہے۔چنانچہ الہی مکالمہ مخاطبہ جیسے اہم اور سنجیدہ معاملہ کی صداقت کو اس حد تک الجھا دیا جاتا ہے کہ خود ساختہ انسانی تصورات اور روحانی تجربات کے مابین امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔الہامی کتب میں سے صرف قرآن کریم ہی تحریف سے محفوظ ہے جو خارق عادت باتوں پر یقین نہ رکھنے والوں کا رد کرتے ہوئے روحانی امور اور تجربات کو فطری اور معقولی رنگ میں پیش فرماتا ہے۔قرآنی بیان کی روشنی میں دیکھا جائے تو معجزات اور نشانات کہیں بھی قوانین قدرت سے متصادم دکھائی نہیں دیتے۔مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشہور و معروف معجزہ کو ہی لے لیں۔اگر چہ اہل کتاب اس معجزہ کو مافوق الفطرت خیال کرتے ہیں لیکن قرآن کریم نے اسے