الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 206
200 آسٹریلیا کے قدیم باشندوں میں خدا کا تصور ٹکڑوں کو باہم ملا کر کسی قسم کے مفہوم یا معنی کو دریافت کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ان کی یہ کوشش عام انسانی ذہن کی اس قسم کی دیگر کوششوں سے چنداں مختلف نہیں۔انسان ہمیشہ سے آسمان ، سورج، چاند اور ستاروں کی حقیقت کے متعلق تحیر میں مبتلا رہا ہے جس کے نتیجہ میں بسا اوقات فرضی کہانیوں نے جنم لیا۔بالآخر بت پرستوں کے خیالی دیوتاؤں کو انہی فرضی کہانیوں کا لباس پہنا دیا گیا۔تا ہم آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ان کی فرضی کہانیاں باقی دنیا کی طرح نہ تو عبادت کے تصور سے وابستہ ہیں اور نہ ہی دیوتاؤں کے گرد گھومتی ہیں۔ان کے نزدیک خدا کا تصور ایک الگ اور آزادانہ حیثیت رکھتا ہے۔اجرام فلکی میں بسنے والی دیگر مخلوقات کو وہ خدا قرار نہیں دیتے۔لہذا Pettazzoni کے اس نظریہ سے اتفاق کرنا مشکل ہے کہ برتر خدا کا تصور ان فرضی داستانوں کی پیداوار ہے۔عقلیت پسند ماہرین بشریات اور ماہرین عمرانیات کا مسئلہ بنیادی طور پر وہی ہے جس کا دیگر سیکولر محققین کو سامنا ہے۔اگر وہ آسٹریلوی شواہد کو قبول کرتے ہیں تو انہیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ایک برتر اور ازلی ابدی خالق کا تصور تدریجا پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ اپنی مکمل شکل میں ضرور خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہوگا۔بصورت دیگر یہ ممکن نہیں تھا کہ خدائے واحد کا تصور تمام قدیم اور سیدھے سادے آسٹریلوی باشندوں میں بلا استثناء یکساں طور پر پایا جائے جبکہ ان میں باہمی رابطہ کی کوئی صورت بھی نہ ہو۔چنانچہ بعض ماہرین بشریات اور ماہرین عمرانیات کا اس ثبوت کو صرف اس لئے رد کر دینا کہ یہ ان کے اپنے خیالات سے مطابقت نہیں رکھتا، خود ان کی علمی حیثیت اور دیانتداری کے تقاضوں کے منافی ہے۔تاہم یہ معلوم کر کے اطمینان ہوتا ہے کہ ان میں بہت سی خوش کن مستثنیات بھی ہیں۔یقیناً بعض ان میں سے ایسے بھی ہیں جو ان شواہد کو حقیقت تسلیم کرنے میں بالغ نظری اور دیانتداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔بایں ہمہ وہ ہمیشہ اس کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح وہ مہم اور مجہول تو جیبات کی دھند میں پناہ لے سکیں۔ایک ایسی ہی مثال ایف۔گریبنر (F۔Graebner) کی بھی ہے۔وہ یہ تو مانتا ہے کہ جہاں تک قدیم آسٹریلوی باشندوں کا تعلق ہے Great God یعنی عظیم خدا ہر اس چیز کا اصل خالق ہے جو انسان کے لئے اہمیت رکھتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا ہے: