الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 205

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 199 بیک وقت خدا کے تصور کی موجودگی کی وضاحت کرتے ہوئے یہ دلیل دیتا ہے کہ دراصل خدائے برتر کا تصور بعد کے لایعنی تو ہمات کے ساتھ خلط ملط ہو گیا تھا۔تا ہم بعض ماہرین بشریات اس بات پر مصر ہیں کہ خدا کا تصور دیو مالائی کہانیوں کی پیداوار ہے۔ان میں ایک نمایاں نام Dio کے رہنے والے Raffael Pettazzoni(1922) کا ہے۔یہ بات حیران کن ہے کہ قدیم آسٹریلیا کے بڑے بڑے قبائل سے مسلسل ملنے والے شواہد اس کے دلائل کی ہرگز تائید نہیں کرتے۔اس کا ایک مخصوص قبیلہ کی دیو مالائی کہانیوں سے نتائج اخذ کر کے اسے عام دیگر قبائل پر چسپاں کر دینا نہ تو دیانتداری ہے اور نہ ہی اس میں کوئی معقولیت پائی جاتی ہے۔جن کہانیوں کا وہ ذکر کر رہا ہے اکثر قدیم آسٹریلوی قبائل میں وہ نہیں ملتیں۔جہاں تک ان قبائل کے خدا پر ایمان کا تعلق ہے وہ سب کے سب ایک اعلیٰ علیم اور ازلی ابدی خالق کے قائل ہیں۔گو Pettazzoni ایک نامور ماہر بشریات (Anthropologist) ہے لیکن اس کا یہ اصرار کسی طرح بھی قابل قبول نہیں کہ اساطیر اور خدائے واحد کے تصور کی بیک وقت موجودگی اس امر کی دلیل ہے کہ اساطیر پہلے تھیں اور خدا تعالیٰ کا نسبتاً کامل تصور بعد میں پیدا ہوا۔اس نے تو یہ ثابت کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہیں کی کہ یہ اساطیر کس ارتقائی عمل کے ذریعہ بالآخر خدا تعالیٰ کے تصور تک پہنچیں۔آسٹریلیا سے ملنے والے شواہد اس نظریہ کی ہر گز تائید نہیں کرتے جس کے مطابق یہ تو ہمات اور اساطیر ایک ارتقائی عمل کے ذریعہ خدا کے تصور تک پہنچیں اور نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت ملا ہے کہ خوف اور حیرت کے باعث مظاہر قدرت کی پرستش کی گئی ہو۔ان میں مروجہ عبادات کا ایسا نظام موجود نہیں تھا جو بالآخر ترقی پاکر خدا پر ایمان میں تبدیل ہو گیا ہو۔اس لئے لامحالہ ہمیں اینڈریو لینگ (Andrew Lang) سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ یہ اساطیر ایک خدا کے تصور سے پہلے نہیں تھیں بلکہ بعد کی پیداوار ہیں۔قدیم آسٹریلوی باشندوں کی اساطیر کیا ہیں، پراگندہ اور بے سرو پا تو ہمات کے ٹکڑے ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے قدیم ان پڑھ لوگ اپنے ذہن میں ان متفرق