الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 189

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 185 اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان تو حید ایک آفاقی رشتہ ہے جو خالق کو اس کی مخلوق سے ملاتا ہے۔یہ تعلق ظاہری بھی ہو سکتا ہے اور باطنی بھی۔لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ی تعلق منقطع ہونے لگتا ہے اور نتیجہ ایسی زمین تیار ہو جاتی ہے جس میں بدی کا درخت خوب پھلتا پھولتا ہے۔تفرقہ کے پہلے آثار اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب بعد کے ادوار کے متکبر مذہبی پیشوا انبیاء کے درجہ کو بڑھا کر توحید کے عظیم الشان مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں اور ان کی طرف کچھ ایسی الوہی صفات منسوب کر دیتے ہیں جو انہوں نے خود اپنی طرف کبھی بھی منسوب نہیں کی ہوتیں۔گزرے ہوئے رسولوں کی محبت میں غلو اس انحطاط پذیر مذہبی معاشرہ کا نیا دین بن جاتا ہے۔ان کی مدح سرائی میں حد درجہ مبالغہ سے کام لیا جاتا ہے۔نئے خدا تراشے جاتے اور فانی ہستیوں کو غیر فانی قرار دے دیا جاتا ہے۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ انہیں اور ان کے پیروکاروں کو اس بیہودہ تضاد کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔گزشتہ انبیاء کی اندھی محبت ان کے دین کی جان اور پہچان بن جاتی ہے۔لیکن اس رسول کے جعلی متبعین کا یہ نیا طبقہ یہ سب کچھ اصل پیغام کی روح اور جذبہ کومکمل طور پر بر باد کرنے کے نتیجہ میں حاصل کرتا ہے۔انبیاء تو ہمیشہ گناہ کے خاتمہ کیلئے آیا کرتے ہیں لیکن ان سے محبت کے جذبات کو بہانہ بنا کر الٹا گناہ کو فروغ دیا جاتا ہے۔یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ گویا ان کی محبت انہیں ان کے سارے گناہوں سے نجات دلا دے گی۔ایک فوت شدہ نبی کی اس قسم کی محبت ان کی زندگی کو موت سے بھی بدتر بنا دیتی ہے۔وہ توحید کے عقیدہ کو پارہ پارہ کرنے کے با وجود خود کو خدا کے حضور اس وقت تک بری الذمہ خیال کرتے ہیں جب تک وہ اس کی خدائی میں مزعومہ شریک کے آگے سر جھکاتے رہیں گے۔یہ عقیدہ اخلاقی بے راہ روی کے بند کو اس طرح تو ڑ دیتا ہے کہ پھر اس کا روکنا انسان کے بس کی بات نہیں رہتی۔یوں معصوم رسولوں کی محبت میں غلو کے نتیجہ میں گناہ ہمیشہ پروان چڑھتا ہے۔یہی انحطاط پذیر مذہبی لیڈر خدا کی محبت کے نام پر نہایت ڈھٹائی سے خونریزی، دہشت گردی اور بنیادی انسانی حقوق کے استحصال کا درس دیتے ہیں۔یہ نہ صرف خدا اور مخلوق کے درمیان ایک حد فاصل کھڑی کر دیتے ہیں بلکہ خود کو خدائی کے مرتبہ پر فائز کر کے احکام جاری