الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 144
144 کنفیوشن ازم مندرجہ بالا اقتباس سے اس طریق کار کا پتہ چلتا ہے جس کے ذریعہ خدا تعالیٰ اپنے ان غلاموں کا انتخاب کرتا ہے جنہوں نے اس کے مشن کی نمائندگی کرنا ہوتی ہے۔چنانچہ جب خدا تعالیٰ نے بادشاہ Wan کی ہدایت اور رہنمائی فرمائی تو اس نے ان ہدایات پر عمل کرنا شروع کر دیا۔اس طرح خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے بلند مقام حاصل ہو گیا۔مذکورہ بالا اقتباس کی آخری آیات بائیبل میں مذکور حضرت داؤد کی یاد دلاتی ہیں جو نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی۔جس طرح حضرت داؤد کو اپنے ان دشمنوں پر حملہ کی اجازت دی گئی تھی جو سچائی کو نیست و نابود کرنے کے خواہاں تھے اسی طرح بادشاہ Wan کو بھی اجازت دی گئی۔تاریخ مذاہب کے مطالعہ سے Wan اور حضرت داؤد کے حالات میں پائی جانے والی اور بھی بہت سے مشابہتوں کا علم ہوتا ہے لیکن ہم یہاں اس طویل بحث میں نہیں پڑیں گے۔مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ چینی مذاہب اور فلسفوں میں الہام کو ایک اہم مقام حاصل ہے اور اسے حصول حق کا ایک خاص ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔چینی روایات میں موجود بہت سی دوسری مثالوں سے یہ بات عیاں ہے کہ کنفیوشن ازم کو ایک ایسا فلسفہ قرار نہیں دیا جا سکتا جو محض انسانی سوچ کا نتیجہ ہو اور خدا تعالیٰ کے علیحدہ وجود کے تصور کے منافی ہو۔اس کے برعکس خدا تعالیٰ کا تصور اس مذہب کا لازمی جزو ہے اور جو علم بھی رؤیا اور کشوف کے ذریعہ حاصل ہوا اسے یقینی طور پر الہام الہی سمجھ کر قبول کیا گیا۔