الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 127
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 127 کو حضرت بدھ کی تعلیم اور طرز زندگی کے بارہ میں مستند حیثیت حاصل ہے اور اس نے حضرت بدھ کو خدا کے ایک ایسے نبی کے طور پر پیش کیا جن کی تعلیم وحی الہی پر مبنی تھی۔چنانچہ انہوں نے دنیا کو وہی تعلیم دی جس کی ذمہ داری خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو سونپی گئی تھی۔اشوکا کے اس مسلک کے نقوش تاریخ کی الواح پر آج بھی کندہ ہیں۔ترک دنیا اور دنیوی علائق سے کنارہ کشی کے متعلق عام طور پر یہ سمجھا ترک دنیا یا فرار جاتا ہے کہ بدھ مت کے مانے والوں کے نزدیک یہی وہ آخری ذرائع ہیں جو دکھ درد سے آزادی اور مکمل نجات دلاتے ہیں۔روز مرہ کی خواہشات کے معاملہ میں روح اور زندگی کی باہمی کشمکش کو ایک زاہد و عابد ہی سمجھ سکتا ہے۔غیر معمولی صبر اور معتم ارادہ کے بغیر یہ ہم ناقابل تسخیر دکھائی دیتی ہے۔لیکن بدھ مت کے ماننے والوں کے نزدیک اسی میں امید کی کرن دکھائی دیتی ہے۔مادی دنیا سے مکمل کنارہ کشی اور دنیوی لذات سے کلی اجتناب ہی نروان اور ابدی نجات کا واحد راستہ ہے۔اسی لئے حضرت بدھ کے پیروکاروں کا دعوی ہے کہ در حقیقت اپنے جذبات کی کلی نفی ہی کامل سچائی ہے۔کیونکہ طاقت اور دولت کی ہوس حتی کہ دوسروں سے بے لوث محبت میں ناکامی، روحانی اذیت اور احساس محرومی پر منتج ہوتی ہے۔اسی طرح نفرت کا احساس ذہنی سکون کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔بدھ مت کے نزدیک ایسے تمام جذبات انسان کی روحانی قوتوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔اس بات کی اہمیت اس سے بھی ظاہر ہے کہ چونکہ انسان کی فطرت تبدیل نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی اس کی هـل مـن مـزیـد کی خواہش ختم ہوسکتی ہے لہذا کامل اطمینان مادی دنیا سے تعلق توڑے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔۔اس طرح حضرت بدھ کے ماننے والوں کیلئے ترک دنیا کے لمبے سفر کا آغاز ہوتا ہے جو بالآخر نجات پر منتج ہوتا ہے۔انہیں آرام دہ زندگی کیلئے درکار تمام لذات کو چھوڑنا پڑتا ہے اور حواس خمسہ کے خلاف ایک مستقل جدو جہد کرنا ہوتی ہے۔یعنی قوت بصارت، سماعت، ذائقہ شامہ اور لامسہ غرضیکہ ان تمام احساسات کی نفی ضروری ہے جو انسان کو کسی نہ کسی طرح بے چینی میں مبتلا کر دیا کرتے ہیں۔ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان حالات ہی سے بچا جائے جن کی وجہ سے انسان مصیبت میں مبتلا ہوتا اور مادی خواہشات کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔الغرض مادی خواہشات