الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xiv of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page xiv

xiv اظهار تشكر مختصر تعارف میں نہیں دیئے جا سکتے البتہ ڈاکٹر صلاح الدین صاحب اور جواد ملک صاحب کا ذکر ضروری ہے جنہوں نے خاص طور پر پروفیسر ملک مسعود احمد صاحب کی مدد فرمائی۔ڈاکٹر صلاح الدین صاحب نے خاص طور پر گمشدہ حوالہ جات کو تلاش کر کے بہت بڑا کام سرانجام دیا ہے۔مجھے ان مضامین کے عناوین یاد تھے اور نہ ہی سن اشاعت۔ان مضامین کے بارہ میں میرے حافظہ میں ایک عمومی سا تاثر تھا جس کی مدد سے انہوں نے حیرت انگیز طور پر تمام حوالہ جات تلاش کر لئے اور مجھے یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ ان میں جو کچھ بھی درج تھا اس کے متعلق میری یادداشت بالکل درست تھی۔لندن کی مسنر صالحہ صفی صاحبہ نے حوالہ جات کی تلاش میں بنیادی کردار ادا کیا۔انہوں نے اپنی بیٹی صوفیہ صوفی محمود کی مدد سے مطلوبہ حوالہ جات پر مشتمل کتب تلاش کرنے کا حیرت انگیز کارنامہ سرانجام دیا۔اسی طرح یہاں کے احمدی بچوں اور بچیوں نیز خواتین و حضرات نے مختلف کاموں کے لئے خود کو رضا کارانہ طور پر پیش کیا اور انتہائی محنت لگن اور اخلاص سے کام کیا۔اگر چہ ان سب کا فرداً فرد اذ کر تو یہاں ممکن نہیں تاہم اگر میں ان چند ناموں کا تذکرہ کروں جو مجھے بطور خاص یاد ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہوگا۔ان میں سر فہرست فرینہ قریشی ہیں جنہوں نے علمی ٹیم کو یکجا کرنے اور اس کی رہنمائی کے سلسلہ میں مثالی کام کیا۔اس ٹیم نے خاص طور پر ان امور کی نشاندہی میں مدد کی جو میرے لئے خاص اہمیت کے حامل تھے۔اس ضمن میں فرینہ قریشی کے علاوہ فریدہ غازی کی خدمت یقینا ٹیم کے ہر ممبر سے بڑھ کر ہے۔فرینہ قریشی نے نہایت انکسار کے ساتھ یہ خدمت سرانجام دی ہے۔یہاں تک کہ انہوں نے اس کام کے دوران اپنے مشوروں کو ضروری ترامیم تک محدود رکھا۔شاذ کے طور پر جب بھی مجھے ان کی اور ان کی ٹیم کی رائے کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوں نے ہمیشہ ادب و احترام کے دائرہ میں رہتے ہوئے مشورے دیئے، اگر چہ ہر بار ان کے مشورے قبول نہیں کئے گئے۔میں ان کی فراخدلی کی داد دیتا ہوں کہ انہوں نے ہمیشہ میرے فیصلوں کو بڑی خوش دلی سے قبول کیا۔متبادل تجاویز کو قبول کرنے کے ضمن میں میری طرح انہوں نے بھی محسوس کیا کہ ساری عبارت کو تبدیل کئے بغیر کسی محاورہ کو تبدیل کرنا کس قدر مشکل کام ہے۔تاہم جلد ہی ہم محاوروں کے اس کھیل سے لطف