الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 110
110 هندو مت اچھی طرح خیال رکھا اور روح نے جسم کے معاملہ میں خود پر عائد ذمہ داریوں کو بطریق احسن نبھایا تو جزا کے طور پر ان میں جدائی اتنی ہی طویل ہو گی۔شادی شدہ جوڑوں کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں ہو گا۔ایسے میاں بیوی جن کا تعلق مثالی رہا ہو گا اور جو ایک دوسرے کی خوشگوار اور پیاری صحبت درجہ مطمئن رہے ہوں گے بلا شبہ انہیں اعلیٰ درجہ کا نروان عطا ہو گا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان میں صرف جسمانی جدائی ہی نہیں ہوگی بلکہ ان کی روحیں بھی ابد تک جدا ر کھی جائیں گی۔تاہم گنہ گار جوڑوں کو مرنے کے بعد جلد ہی واپس زمین پر بھیج دیا جائے گا تا کہ وہ اپنی گناہ آلود نفسانی لذات کا ایک اور دورانیہ گزار سکیں۔خدا کی پناہ! زمین پر کیسی جہنم ہے اور آسمان پر کیسی جنت ! سے حد درجہ ممکن ہے کسی سائنسدان کو موت وحیات اور ابدیت کا یہ ہند و فلسفہ معقولیت سے عاری نظر آئے مگر اس امر سے بھی انکار نہیں کہ اس فلسفہ میں ایک خاص قسم کی لذت ضرور موجود ہے جس کی وجہ سے عقلی دلائل کے بکھیڑوں میں پڑے بغیر جدید دور کے بہت سے افراد اس کے سحر میں گرفتار ہیں۔اس کی بڑی کشش تو یہ ہے کہ اس کے مطابق پر صعوبت ارضی زندگی میں واپسی کی امید قائم رہتی ہے۔تمام جاندار مخلوق میں سے انسان تضادات کا عجیب وغریب مجموعہ ہے۔وہ زندگی کے مصائب کا رونا روتا رہتا ہے اور ان کے حل کے لئے موت کے انتظار میں رہتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس ارضی قید خانہ میں دوبارہ آنے کی شدید خواہش بھی رکھتا ہے۔قید حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں ات سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں موت صاف ظاہر ہے کہ اس فلسفہ کا سحر تمام جانداروں میں زندہ رہنے کی ہمہ گیر خواہش میں پوشیدہ ہے۔تا ہم اس وعدہ فردا کے اسیروں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ انسانی معاشرہ بحیثیت مجموعی اخلاقی اور دینی اعتبار سے خاصے انحطاط کا شکار ہے۔یہ لوگ جو ایک دفعہ پھر انسانی شکل میں پیدا ہونے کی آس لگائے بیٹھے ہیں یاد رکھیں کہ اس خواب کا شرمندہ تعبیر ہونا قرین قیاس نہیں ہے۔اگر کرموں کا ویدک فلسفہ درست ہے تو غالب امکان ہے کہ آج کے انسانوں کی اکثریت کل