الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 109
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 109 لمبے دور کا آغاز ہوتا ہے۔یہ ہندو مذہب کے نروان یا جنت کا تصور ہے۔لیکن سکون کا یہ دورانیہ خواہ لاکھوں سال پر محیط کیوں نہ ہو، لازم ہے کہ بالآخر اپنے اختتام کو پہنچے۔"نروان" سے ایک عرصہ تک لطف اندوز ہونے کے بعد ضروری ہے کہ ایسی تمام روحوں کو جون کے چکر میں شمولیت کے لئے واپس زمین پر بھیجا جائے۔ہندومت کا یہ تنقیدی جائزہ کچھ زیادہ ہی طول پکڑ گیا ہے۔ہندوؤں کے مذہبی علماء چاہیں تو اپنے عقیدہ میں سے عقل کو بالکل بے دخل کر سکتے ہیں جیسا کہ بعض دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی طرف سے اکثر و بیشتر ایسا کیا بھی گیا ہے۔اس صورت میں خواہ برعکس حقیقت ہی ثابت کیوں نہ ہو جائے وہ پھر بھی مصر ہوں گے کہ معجزانہ طور پر خدا، جانداروں کی مختلف اقسام میں کسی حد تک ایک توازن قائم رکھتا ہے اور ان سب کا محاسبہ کرموں کے کسی غیر مرئی نظام سے کیا جاتا ہے۔زندگی کی ہر نوع کا محاسبہ اس سے متعلقہ جانداروں کے کرموں کے مطابق کیا جاتا ہے۔بدی کے مرتکب شخص کو اگلے جنم میں کسی ادنیٰ درجہ کے جانور کے طور پر پیدا کر دیا جائے گا۔اسی طرح نیک چلن جانور کو اگلے جنم میں انسان کے درجہ پر ترقی دی جاسکتی ہے۔مثلاً ایک نیک چلن کتا اپنے مالک کے گھر خود مالک کے طور پر پیدا کیا جاسکتا ہے جبکہ بدچلن مالک کو خود اس کے اپنے گھر میں ہی کتا بنا کر ایک نئے انسانی مالک ( سابقہ کتے ) کے ہاں پیدا کیا جا سکتا ہے۔یہ تو طے شدہ بات ہے کہ یہ فلسفہ اپنی ایک اندرونی منطق رکھتا ہے۔اگر چہ خدا ایک ایسے مطلق العنان آمر کے طو پر ظاہر ہوتا ہے جو بلا استحقاق ملکیت ، آزاد روحوں اور جسموں کو اپنی غلامی کے ابدی سلسلہ میں باندھ دیتا ہے لیکن بقول ان کے یہ سب کچھ وہ نظام عدل کی بنیاد پر کرتا ہے۔وہ ہمیشہ اجسام اور ارواح کو زمین پر سابقہ جنم کے کرموں کی جزا یا سزا کے طور پر جوڑتا ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر گزر چکا ہے ارواح کیلئے مادے کی قید سے عارضی رہائی کی صورت میں، جو بہت موہوم ہی سہی ، پھر بھی نروان کا ایک امکان ضرور باقی رہتا ہے۔لہذا موت جسے ہم نا پسند کرتے ہیں یعنی روح کی اپنے لازمی رفیق بدن سے علیحدگی، در اصل ایک در پردہ انعام کا رنگ رکھتی ہے۔اس بات کا فیصلہ کہ جدا کیا گیا جوڑا اس آزادی کے مزے کب تک لوٹے گا، اس کی زمین پر گزشتہ مشتر کہ زندگی کے طرز عمل کی بنیاد پر ہوگا۔اگر تو ان کا باہمی سلوک مثالی تھا یعنی جسم نے روح کا