الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 100
100 هندو مت انحطاط پذیر ہونا شرع ہو گئیں اور زمین کو گناہوں سے بھرنے میں انہیں زیادہ دیر نہیں لگی۔گناہ کے ساتھ ہی عذاب اترا اور وہ لوگ تیزی سے انسانیت کے مقام سے گرنا شروع ہو گئے۔انسانوں کو جانوروں میں تبدیل ہوتے دیکھ کر وہ شدید غم اور سکتے میں آگئے ہوں گے۔مگر تنزل کا الزام ان کے اپنے کئے ہوئے گناہوں کے سر ہی تھا۔کرموں کے قانون کا نفاذ تو ہو کر رہنا تھا اور نتیجہ گناہوں نے بھی بہر حال اپنا خراج وصول کرنا تھا۔چنانچہ افزائش نسل کے پس منظر میں انسانی بچوں کی بجائے جانوروں کی مختلف انواع کا جنم لینا ان کے مشاہدے میں کوئی انوکھی بات نہیں ہوگی۔لیکن شاید ہندومت کے علماء بھی اصل انواع اور کرموں کے قانون کو اس طرح پیش نہیں کرتے۔اس پر کسی واضح بیان کی عدم موجودگی میں ان کے پاس اپنے عمومی اعتقاد کے اندر رہتے ہوئے کچھ مکنہ تاویلات کا راستہ ہی رہ جاتا ہے۔شاید وہ زمین پر زندگی کے دقیق رازوں کو مختلف انداز میں آشکار ہوتے ہوئے دیکھتے ہوں گے۔چاروں رشیوں کے زمانہ کے بعد انسان جو نہی زوال کا شکار ہوا تو اس کے تولیدی قویٰ کمزور ہونا شروع ہو گئے ہوں گے اور بانجھ پن کی وبا پھوٹ پڑی ہوگی۔انسانوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہوگی اور حیران کن طور پر جانوروں کی مختلف انواع سطح زمین پر نمودار ہونے لگی ہوں گی۔ہاتھیوں اور شیروں کے نمودار ہونے پر زمین مختلف جگہوں سے شق ہونے لگی۔اسی طرح کتے بلیاں ،لگڑ بگڑ اور بھیڑیے ظاہر ہونے لگے۔پانی میں ہر رنگ، شکل اور جسامت کی مچھلیاں نمودار ہونے لگیں اور کچھوے بھی پیچھے نہیں رہے ہوں گے۔پھر حشرات الارض ٹڈی دل کی طرح دنیا میں آن موجود ہوئے ہوں گے۔زندگی کی ان ظاہری شکلوں کے علاوہ نظر نہ آنے ولے وائرس اور بیکٹیریا کی بادشاہت تیزی سے پھیلی ہوگی۔مگر افسوس ! کہ چاروں رشیوں کی تمامتر کوششوں اور انذار کے باوجود انسان نے اطاعت سے انکار کر دیا اور ویدوں کی تعلیمات سے بغاوت جاری رکھی۔ان کے گناہوں کے طبعی نتیجہ کے طور پر انسانوں کا جانوروں کی جونوں میں ظاہر ہونے کا سلسلہ ایک وحشیانہ انتقامی کارروائی کا رنگ اختیار کرتا چلا گیا۔جب سطح زمین اور سمندروں کی گہرائیاں ناکافی ثابت ہوئیں تو انسان نے انسان کے اندر