الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 99

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 99 اور کیف کے عالم میں ڈوب گئے۔ان کے حواس مصفا اور تیز ہو گئے۔ان کے ذہن مزید حصول علم کے لئے مجسم پیاس بن گئے۔تب عرفان کی یہ مقدس حالت گہرے گیان اور ریاضت میں منتقل ہو گئی۔پھر انہوں نے ماڈی دنیا سے بالکل مختلف حقائق کا مشاہدہ کیا اور اپنے اندر سے ایک آواز سنی جس کے ساتھ ہی حقیقی سچائی ان پر منکشف ہوگئی۔20 پس ویدوں کی تعلیمات سے پنڈت جو کچھ سمجھے ہیں اس کی رو سے وہ ہمیں یقین دلانا چاہتے ہیں کہ زندگی ارتقا کی بجائے انحطاط پذیر ہے۔چار عظیم ابتدائی رشیوں کے بعد سے پیدا ہونے والی نسلوں کا مقدر یہی ٹھہرے گا کہ وہ ابتدائی انسانوں کے بالمقابل اپنی تمام تر صلاحیتوں میں زوال پذیر ہوں۔انسانی صلاحیتوں کا گرتا ہوا یہ گراف ان کے اخلاقی رویہ پر بھی حاوی ہوگا۔کرموں اور جونوں کا یہ ہندو فلسفہ بنی نوع انسان کے مستقبل کیلئے یقینا ایک برا شگون ہے۔پروفیسر ورمن کے بقول : آنے والی زندگی کے انحطاط سے یہ مراد ہے کہ نوع انسان کی بجائے کسی ادنی انوع میں پیدا ہونے کیلئے تیار رہا جائے۔یہ کرموں کا پھل ہے اور بداعمالیوں کی سزا۔اور یہ سزا مختلف انسانی صلاحیتوں، احساسات اور قومی سے محرومی کی شکل میں ملتی ہے۔یہ کرموں کا فلسفہ ہے اسی کے تحت الہی قوانین کام کرتے ہیں اور اسی کو قوانین قدرت کی حکمرانی کہتے ہیں۔3 ہم سمجھتے ہیں کہ اس فلسفہ کو دیدوں کی تعلیمات کی طرف منسوب کر کے ہندوؤں نے ویدوں کی حرمت سے کوئی انصاف نہیں کیا۔اگر ایسے بیانات کو سنجیدگی سے لیا جائے تو زندگی کے آغاز کی کہانی کو از سر نولکھنا پڑے گا۔اس نئے خیال کے مطابق زندگی کی ابتداء کے بارہ میں کرموں کا کردار یقیناً بہت ہی مرکزی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔زندہ رہنے کیلئے جدوجہد بقائے اصلح، اور جینیاتی تغییرات جن کے بارہ میں نظریہ ارتقا کے حامی رطب اللسان رہتے ہیں کو یکسر مستر د کرنا پڑے گا۔یہ اصطلاحیں محض سائنس فکشن کی من گھڑت اختراعات ٹھہریں گی جن کے حق میں کوئی ٹھوس شہادت نہیں ملتی۔زندگی کے معمہ کا واحد حل صرف کرموں تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔چنانچہ اس اشارے کو محوظ رکھتے ہوئے ہم بآسانی یہ استنباط کر سکتے ہیں کہ زندگی کا سفر اعلیٰ درجہ کے مقدس انسانوں کی پیدائش سے شروع ہوا مگر اگلی نسلیں پہنی، جسمانی اور روحانی طور پر