الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 94

94 هندو مت قدیمی رشیوں کا معاملہ، جن کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ ان پر وید نازل ہوئے ، مختلف ہے۔رشی، ایک ہندو اصطلاح ہے اس سے ایسے مذہبی بزرگ مراد ہوتے ہیں جو دنیا سے قطع تعلق کرلیں اور کلیۂ خدائی منشا کے تابع ہو جائیں۔اگر چہ کہا تو یہ جاتا ہے کہ وید الہی تعلیم پر مشتمل ہیں لیکن رشیوں کے بارہ میں کوئی ایسی واضح تفاصیل دستیاب نہیں ہیں جن سے پتہ چل سکے کہ ان پر یہ پیغام وحی کی صورت میں نازل ہوا تھا۔یہ سوال کہ کیا رشیوں کے وجدان کو حقیقت میں الہام کہا جاسکتا ہے شاید ہمیشہ کیلئے ایک معمہ ہی بنا رہے۔جو کچھ ہمیں ہند وعلم کلام سے پتہ چلتا ہے اس کی بنیاد کلی ان کے عقیدہ پر ہے۔اگر چہ مختلف علماء رشیوں کے مختلف زمانے بتاتے ہیں لیکن اس دعویٰ پر سب متفق ہیں کہ رشی ہی قدیم ترین انسان تھے۔غالب امر یہ ہے کہ ہندومت کی یہ تشریح محض انسانی تخیل کی پیداوار ہے۔انبیاء کے بعد آنے والے لوگ انبیاء کی تعلیمات میں ہمیشہ تحریف و تلبیس کے مرتکب ہوئے ہیں۔لہذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ہندو انبیاء کے بعد ان کے پیروکاروں کی آنے والی نسلوں نے بھی ان کی تعلیم کو بگاڑ کر رکھ دیا ہو۔جب ہم کہتے ہیں کہ ویدوں میں تحریف ہوئی ہے تو ہماری ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ ویدوں کی تمام تر تعلیمات گلیڈی بدل دی گئی ہیں۔مذہبی صحیفوں کے ساتھ خدا تعالیٰ نے کبھی بھی ایسا نہیں ہونے دیا۔اصل صداقت کسی نہ کسی حد تک انسانی تحریف و دستبرد سے ہمیشہ محفوظ رہی ہے۔اس اصول کی روشنی میں ہر مذہب کے اصل ماخذ کا بغور مطالعہ ہمیشہ سودمند ثابت ہوتا ہے۔ہندومت کی گہری تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک خالص بنیادی عقائد کا تعلق ہے یہ مذہب باقی الہامی مذاہب سے چنداں مختلف نہیں ہے۔سیر بین (Kaleidoscope) میں معمولی سی حرکت سے منظر ڈرامائی طور پر بدل جاتا ہے۔مہا بھارت اور بھگوت گیتا سے اس بات کی کافی شہادت پیش کی جاسکتی ہے کہ حضرت کرشن علیہ السلام نے نہ تو کبھی خدائی کا دعوی کیا اور نہ ہی خود کو لافانی کہا۔مذہب کی معلوم تاریخ میں سلسلہ انبیاء میں سے حضرت کرشن علیہ السلام کی بحیثیت ایک نبی کے شناخت چنداں مشکل نہیں ہے۔حضرت کرشن علیہ السلام کی مستند سوانح سے پتہ چلتا ہے کہ وہ 1458 قبل مسیح میں عام بچوں کی طرح بسوڈ یا (Basudeba) اور اس کی بیوی دیبوکی (Deboki) کے ہاں پیدا ہوئے۔انہوں