الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 93

ہندومت مذاہب کی برادری میں ہندومت اپنی ذات میں منفرد ہے۔ہندو لٹریچر میں الہام کا مفہوم تلاش کرنا جو روایتی الہامی مذاہب میں ملتا ہے ایک مشکل کام ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف تو ہندومت میں الہام کا ایک جدا گانہ تصور ہے جو صرف ویدوں تک ہی محدود ہے اور دوسری طرف ان کے ہاں بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے خدا کو انسانی شکل میں متمثل دکھایا گیا ہے۔ہر چند کہ عیسائیت میں حضرت عیسی علیہ السلام کا تصور بھی کسی حد تک ہندومت میں حضرت کرشن علیہ السلام کے تصور سے مشابہت رکھتا ہے لیکن یہ مشابہت سطحی نوعیت کی ہے۔یسوع مسیح کی شکل میں ابنیت کے ظہور کے باوجود عیسائیوں کے نزدیک کائنات کا اختیار باپ کے پاس ہی ہے اور یسوع کی انسانی شکل میں تجلی در اصل باپ کی صفات کا ظہور ہی ہے۔عیسائیت میں روح القدس کے نام سے ایک تیسرا وجود بھی ہے جو ان دونوں سے الگ فی ذاتہ تثلیث کا جز ولا نیفک ہے۔تا ہم ہندومت میں کرشن کی صورت میں 'بر ہما کے ظہور کا عقیدہ اتنا واضح نہیں ہے۔جب اس کا اوتار کرشن زمین پر موجود ہوتا ہے تو کیا وہ اس وقت بھی اپنے عرش سے زمین اور آسمان پر حکمرانی کر رہا ہوتا ہے۔یا پھر یہ کہ کرشن ہی انسانی روپ میں بحیثیت خدا زمین سے کائنات کی حکمرانی کرتا ہے۔یا یہ کہ کرشن محض ایک بت تھا یا ایک ظل، اور خدا خود ہمیشہ کی طرح کائنات کا حاکم تھا۔اس طرح کے کئی سوالات ہیں جو حل طلب ہیں۔پھر جہاں تک الہام الہی کا تعلق ہے عیسائیت اس سلسلہ میں باقی مذاہب سے کلیہ متفق ہے کہ الہام آسمان سے نازل ہوتا ہے۔تاہم ہندومت میں الہام کا تصور باقی مذاہب سے مختلف ہے۔اس کے نزدیک خدا انسانوں کے لئے بطور نمونہ خود انسانی شکل میں متمثل ہوتا ہے۔اس کام کیلئے اسے کسی پیغمبر کی ضرورت نہیں ہوتی۔93