جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 80
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 80 اسی ترتیب سے پہلے فقرہ میں " ہمارا " کہا دوسرے میں " میں " فرمایا اور غیر محسوس سے وقفہ سے یہ دوسرا فقرہ ادا فر مایا۔مجھے قسم ہے اپنے مالک و خالق از لی وابدی خدا کی جس کے حضور میں نے بھی اور سب نے حاضر ہونا ہے اور وہی میرا شاہد ہے میرا حاضر و ناظر خدا جس کے پاس اب میرے جانے کا وقت قریب ہے کہ یہ سچ اور بالکل حق ہے کہ ان الفاظ میں ذرا فرق نہیں۔مجھے ایک ایک لفظ ٹھیک یادرہا اور ایسا کچھ خدا تعالیٰ کے تصرف سے میرے دماغ پر نقش ہوا، اور دل پر لکھا گیا کہ میں بھول نہیں سکی۔اس وقت بھی وہاں آپ کا کھڑا ہونا پیش نظر ہے آپ کی آواز اسی طرح کانوں میں آرہی ہے۔اس طرح گویا میری چشم تصور آپ کو دیکھ رہی ہے جیسے آج کی بلکہ ابھی کی بات ہو۔پہلے یہ بھی میرا خیال رہتا تھا کہ آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے جو چلی آئی تو شاید آپ کو علم نہ ہو کہ میں سن رہی ہوں مگر ممکن ہے اور بہت ممکن ہے کہ آپ نے میری آہٹ پالی ہو۔میری چاپ پہچان لی ہو۔کیونکہ اکثر آپ کے ساتھ ساتھ چل پڑا کرتی تھی۔اور یوں بھی میں قریباً آپ کی پشت مبارک کے ساتھ ہی تو لگی کھڑی تھی آپ کی آواز یہ الفاظ یہ دونوں مندرجہ بالا فقرے بولتے ہوئے سرسری سی نہ تھی بلکہ بڑے ٹھہراؤ سے بڑے وقار و سنجیدگی سے آپ نے یہ بات کی۔اور خصوص دوسرا فقرہ جب آپ نے بولا تو معلوم ہوتا تھا بہت دور کہیں دیکھ کر ایک عجیب سے رنگ میں یہ الفاظ آپ کے منہ سے نکل رہے ہیں اس طرح آپ نے یہ فقرے ادا کئے جیسے اپنے آپ سے کوئی بات کر رہا ہومگر ویسے میں یہی سمجھ رہی تھی کہ حضرت اماں جان سے آپ مخاطب ہیں۔اس بات کی بناء پر مجھے ہمیشہ یقین رہا اور ہے کہ خلافت محمود کے متعلق آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے علم ہو چکا تھا۔" (الفضل 19 / مارچ 1964ء)